گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو وارننگ دے دی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان پر ردعمل میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ علی امین مجھے گورنر رہنے دیں ورنہ میں آپ سے بڑا بدمعاش بن جاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ جو گورنر ہاؤس پر قبضے کی بات کرے گا، اُس کو اُسی زبان میں جواب دیا جائے گا، علی امین گنڈاپور نے بہت بدمعاشی کرلی، اب مزید نہیں کرنے دیں گے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ علی امین گنڈاپور جیسے لوگوں سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتے، ناچنے والے گھوڑے، ریس نہیں جیتا کرتے، اتنا کہنا کافی ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے یہ بھی کہا کہ مرکز اور صوبوں میں لڑائی نہیں چاہتے، وزیراعلی کو گورنر ہاؤس فوبیا ہے، جس کا علاج صرف اسپتال میں ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا مقدمہ وفاق میں ہر فورم پر لڑیں گے، صوبے اور اپنےضلع ڈیرہ اسماعیل خان کو پرامن بنانا چاہتے ہیں، توجہ خیبر پختونخوا کے امن و امان پر ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ نہیں چاہتے کہ وزیراعلیٰ کے حلقےمیں جج اغوا ہوں، سنا ہے سیشن جج کی بازیابی تاوان کی ادائیگی سے ممکن ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کے ذریعے پتا چلا کہ جج کی رہائی کے بدلے 5 تا 7 کروڑ تاوان سرکاری فنڈ دیا گیا، وزیراعلیٰ خود بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی زرعی فصل اٹھانے کےلیے بھتا دیتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ علی امین قید تھے، تو کوئی انہیں پانی پلانے والا تک نہ تھا، اُس وقت بلاول بھٹو کے حکم پر خورشید شاہ کے گھر سے علی امین کےلیے کھانا آتا تھا۔



