اسلام آباد (آن لائن) کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی ابھی تک کی تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی جانب سے ٹیلی نار پاکستان اور اورین ٹاورز پرائیویٹ لمیٹڈ کا مجوزہ حصول ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری میں کمپٹیشن کو کافی حد تک کم کرنے کا باعث بن سکتاہے جس کے نتیجے میں قیمتیں زیادہ ہو سکتی ہیں یا صارفین کے لیے انتخاب یا معیار میں کمی ہو سکتی ہے۔پی ٹی سی ایل ایک پبلک لسٹڈ کمپنی ہے جو اپنے ذیلی اداروں کے ذریعے پاکستان، آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) اور گلگت بلتستان (جی بی) میں مختلف ٹیلی کمیونیکیشن سروسز جیسے سیلولر موبائل ٹیلی فونی سروس، وائرلیس لوکل لوپ سروس، ڈائریکٹ ٹو ہوم ٹیلی ویڑن سروس اور مالیاتی خدمات فراہم کرنے میں مہارت رکھتی ہے۔ جبکہ ٹیلی نار پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور اورین ٹاورز پرائیویٹ لمیٹڈ، ٹیلی نار پاکستان بی وی(ٹی پی بی وی) کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنیاں ہیں جو پاکستان، اے جے کے اور جی بی میں سیلولر موبائل اور اس سے منسلک خدمات فراہم کرنے میں مصروف ہے۔پی ٹی سی ایل، جس کی بنیاد 1995 میں رکھی گئی تھی، کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) ہول سیل ڈومیسٹک لیزڈ لائنز، ہول سیل آئی پی بینڈوڈتھ اور ریٹیل ایل ڈی آئی فکسڈ لائن ٹیلی کمیونیکیشن مارکیٹ میں پہلے ہی ایک اہم مارکیٹ پاور (ایس ایم پی) قرار دے چکی ہے۔ سی سی پی کے مطابق موجودہ اوورلیپس کے ساتھ،، اگر معاہدے کو آگے بڑھایا جائے تو، انضمام سے انتخاب، اختیارات، اورمتعلقہ مارکیٹ میں مقابلہ کم ہونے کا امکان ہے جہاں پہلے ہی حریف بہت کم ہیں۔ یہ صارفین کے لیے بدتر نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔سال 2016 میں پاکستان موبائل ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ کی جانب سے وارد ٹیلی کام (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے حصول سے نیٹ ورک آپریٹرز کی تعداد میں پہلے ہی کمی آچکی ہے۔مجوزہ انضمام سے متعلقہ مارکیٹ میں چار میں سے ایک اور پلئیر کا خاتمہ ہو جائے گا۔ سی سی پی کو تشویش ہے کہ مسابقت میں کمی کے نتیجے میں قیمتیں زیادہ ہو سکتی ہیں یا صارفین کے لیے انتخاب یا معیار میں کمی ہو سکتی ہے۔اس لیے ٹرانزیکشن کو فیز 2 کے مفصل تجزیہ کے لیے بھیجا جائے گا۔سی سی پی کا مقصد ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری میں کمپٹیشن کے فروغ سے پاکستان کے صارفین کو بہتر خدمات اور مصنوعات فراہم کرنا ہے۔
Load/Hide Comments



