لاہور (آن لائن) وفاقی وزیرداخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی اور وفاقی وزیر ایوی ایشن و دفاع خو اجہ محمد آصف نے علامہ اقبال انٹر نیشنل ائیر پورٹ کا 2 گھنٹے طویل دورہ کیا،وفاقی وزرا نے ائیر پورٹ پر مسافروں کیلئے موجود سہولتوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک جانے والے مسافروں کی سہولت کیلئے امیگریشن کاؤنٹرز میں اضافہ اورسرچ کا طویل اور 3 درجاتی عمل کو آسان اور تیز بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امیگریشن کے مسائل کے فوری حل اور مسافروں کے لئے سہولتیں بڑھانے،بیرون ملک جانے والے مسافروں کی تلاشی کے عمل کو آسان اور تیز کرنے کا حکم دیا۔وفاقی وزراء نے اے ایس ایف،اے این ایف اور کسٹمز کے حکام سے سرچ کو سہل بنانے کا پلان طلب کرتے ہوئے قابل عمل پلان اگلے 24 گھنٹے میں تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔وفاقی وزیر ایوی ایشن و دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ لاہور ائیرپورٹ پر کامیاب تجربے کے بعد سرچ کے عمل کو دیگر ائیرپورٹس پر بھی شروع کیا جائے گا،ائیر پورٹس پر مسافروں کی آمدورفت سہل بنانے کے لئے متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے بیرون ملک آمد اور روانگی ٹرمینل پر امیگریشن کے کاؤنٹرز میں اضافے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مسافروں کو انتظار کی زحمت سے بچانے کیلئے فوری طور پر امیگریشن کاؤنٹرز کی تعداد بڑھائی جائے۔ 3 روز میں امیگریشن کاؤنٹرز میں اضافے کا حتمی پلان پیش کیا جائے،امیگریشن کاؤنٹرز بڑھنے سے مسافروں کو انتظار سے نجات ملے گی۔ محسن نقوی نے کہا کہ مسافروں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کے لئے آؤٹ آف باکس اقدامات کئے جائیں۔ وفاقی وزراء نے امیگریشن کاؤنٹرز پر مسافروں کے لئے انتظامات کاجائزہ اور اے این ایف،اے ایس ایف اور کسٹمز کے سرچ کے عمل کا بھی مشاہدہ کیا۔وفاقی وزرا نے ائرپورٹ پر مسافروں کے موجودہ سہولتوں کا جائزہ لیا۔ علاوہ ازیں وفاقی وزرا ء کی زیر صدارت ائیر پورٹ کے کانفرنس روم میں اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا ء کو ائیر پر مسافروں کی سہولت کیلئے اقدامات کے بارے بریفنگ دی گئی۔وفاقی وزرا نے متعلقہ حکام کو مسافروں کے لئے سہولتیں بڑھانے کے لئے ضروری ہدایات دیں۔ اجلاس میں ڈپٹی ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی،اے این ایف کے کرنل شوکت،ایف آئی اے لاہور کے ڈائریکٹر سرفراز ورک، اے ایس ایف، کسٹمز اور علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔
Load/Hide Comments



