مجرموں کی سرپرستی یا سہولت کاری کرنیوالوں کو رعایت نہیں ملے گی،شرجیل میمن

کراچی(آن لائن)سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ایکسائز، ٹیکسیشن، نارکوٹکس کنٹرول، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے واضح ہدایات دی ہیں کہ مجرموں کی سرپرستی یا سہولت کاری کرنے والا کوئی بھی ہو اس کے ساتھ کوئی بھی رعایت نہیں برتی جائے گی، صدر آصف علی زرداری کی ہدایات کی روشنی میں اپیکس کمیٹی کی اکیسویں اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے ہیں، جن میں منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن، غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں، ڈاکؤؤں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن بھی شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اجلاس میں منشیات اور غیر قانونی تارکین وطن کے حوالے سے اہم بات چیت کی گئی اور گذشتہ روز صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں بھی منشیات سے متعلق بھی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ منشیات فروشوں کے برے دن شروع ہو گئے ہیں، اگر وہ منشیات فروشی سے باز نہیں آئے تو ان کا حشر برا ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومت مل کر منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں، منشیات فروشوں کے خلاف وفاق اور صوبائی حکومت کی جانب سے مشترکہ ٹیمیں بنائی جائیں گی، صوبے کے بارڈر ایریاز میں مشترکہ چیک پوسٹس بنائی جائیں گی۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے میڈیا کو بتایا کہ اس وقت ایکسائز اور نارکوٹکس کنٹرول ڈپارٹمنٹ متحرک ہے اور ایکسائز اور نارکوٹکس کنٹرول ڈپارٹمنٹ نے دو سؤ سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا ہے، محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول میں مزید تبدیلیاں لائی جارہی ہیں، کچھ لوگ جو اسکولوں اور گھروں میں منشیات سپلائی کرتے ہیں ان کے خلاف سخت قانونسازی کی جا رہی ہے، سندھ میں رینجرز، پولیس اور اینٹی نارکوٹکس فورس منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن کی نشاندہی کی جارہی ہے اور ان کا ڈیٹا جمع کیا جارہا ہے، غیر قانونی تارکین وقت جن جگہوں پر پناہ لیتے ہیں ان کی بھی مانیٹرنگ کی جائے گی، کسی بھی ملک میں تارکین وطن غیر قانونی طور پر قیام نہیں کر سکتے، پاکستان سے بھی غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے ملک واپس بھیجا جائے گا، اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف قومی پالیسی کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی میں کے پی او پر حملے کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، کے پی او حملے میں ملوث ایک شخص سے متعلق تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ ایک مدرسے کا معلم تھا، جو قابل تشویش بات ہے، کے پی او حملے میں مدرسے کے استاد کا ملوث ہونے کی بات سامنے آنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ جہاں جہاں ایسے عناصر موجود ہیں ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے حکومت سندھ کو واضح ہدایات دی ہیں کہ ڈاکوؤں کی سہولتکاری کرنے والوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے، اس ضمن میں سندھ حکومت کی پالیسی زیرو ٹالرنس والی ہے، کچے کے علاقے میں سخت ایکشن جاری ہے، متعدد مغوی بازیاب کرالئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے بھی بات کی اور صدر آصف علی زرداری کوپولیس نے اپنی کارکردگی سے متعلق آگاہ کیا، اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف تمام ادارے اور عوام ایک پیج پر ہیں، پولیس ان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ کی قیادت قیادت میں سیاسی قیادت اور پولیس مکمل نیک نیتی کے ساتھ اسٹریٹ کرائم کے خلاف کام کر رہی ہے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اسلحے کی نمائش کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کئے گئے، جو لوگ بڑی گاڑیوں میں اسلحہ لے کر گھومتے ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی، کسی کا بھی محافظ ہو اس کو اسلحے کے نمائش کی اجازت نہیں ہوگی، اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی ہے، اس سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کل سے ایکشن لیں گے، وردی کے بغیر جس کسی نے بھی اسلحے کی نمائش کی اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔