کوئٹہ (آن لائن)شدید اور غیر متوقع موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے دنیا کو مشترکہ اور مربوط لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ان خیالات کا اظہارسینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اپنے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ شدید بارشوں اور سیلاب سے بچنے کے لئے اب ہمیں سنجیدہ ہونا پڑے گا اور اوراس قدرتی آفت سیلاب سے بچنے کے لئے ہر قسم کے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ڈیمز کی تعمیر کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو ان آفات کے اثرات سے بچایا جاسکے اور مستقبل میں متوقع شدیدموسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید سرد اور گرم موسموں کے علاوہ متوقع شدید بارشوں اور سیلاب کے اثرات سے بچا جا سکے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا سبب بننے والے بڑے ممالک ان تباہ کن تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک خاص کر پاکستان کی سیلاب کے بعد اس مشکل صورتحال میں مدد کریں۔موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی حالیہ غیر متوقع شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال سے پاکستان خاص کر صوبہ بلوچستان کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔اس صورتحال سے بلوچستان کو ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے صوبے میں غیر معمولی بارشوں اور سیلابی آفات سے فصلوں اور کچے مکانات کو بڑے پیمانے پر نقصانات کا سامنا کر نا پڑرہا ہے اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومت اور اس کے ماتحت ادارے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق جامع پالیسی پر کام کر رہے ہیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں دوبارہ آباد کاری کے بحالی منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی میں اس بات پر توجہ دی جاررہی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں رونما ہونے والے ممکنا نقصانات کو کم سے کم رکھا جائے، اور مستقبل کی منصوبہ بندی بدلتے موسمی حالات کو مد نظر رکھ کر تشکیل دی جائے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا ذمہ دار پاکستان نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک ہیں جبکہ پاکستان ماحولیاتی آلودگی سے براہ راست متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدید موسمی تبدیلی ساری دنیا کے لئے بڑا چیلنج ہے لیکن پاکستان پراس تبدیلی کے منفی اثرات زیادہ پڑ رہے ہیں جس سے پاکستان اپنے طور پر نمٹ رہاہے۔ شدید موسمی تبدیلیوں کے چیلنجز سے تمام ممالک کو ملکر نمٹنا ہوگا۔قدرتی آفات کے آگے مزاحمت کرنا ناممکن لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے اقدامات ضرور کئے جاسکتیہیں۔موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے موثر اقدامات نہ کیے تو شاید آئندہ کا نقصان آج کے نقصان سے کہیں زیادہ ہوجس کا نہ تو پاکستان متحمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کا اور کوئی دوسرا ملک۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں متوقع شدید موسمی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے پاکستان میں ڈیمز کی تعمیرناگزیر ہو گئی ہے اور اس سلسلے میں سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں شدید سرد اور گرم موسموں کے علاوہ متوقع شدید بارشوں اور سیلاب کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔
Load/Hide Comments



