اسلام آباد(آن لائن) الیکشن کمیشن نے این 86 سرگودھا میں دوبارہ گنتی اوراین اے 164کے فارم 47میں تبدیلی کے حوالے سے فیصلے محفوظ کر لئے۔بدھ کے روز ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 2 رکنی کمیشن نے این اے 86سرگودھا اور این اے 164کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کی اس موقع پر ن لیگ کے امیدوار سید جاوید حسنین کے وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ این اے 86 کے آراو کا کردار متنازعہ تھا انہوں نے کہاکہ ریٹرننگ افسر نے جان بوجھ شیر کے نشان سے ملتے جلتے نشانات امیدواروں کو الاٹ کئے جس پر ممبر کمیشن نے استفسار کیا کہ کونسے نشانات تھے جو شیر سے ملتے تھے جس پر وکیل ے بتایا کہ بھیڑ اورریچھ کے نشانات شیر سے ملتے جلتے ہیں جس سے 21 ہزار ووٹ دوسرے امیدوار کو مل گئے جس پر ممبر کمیشن نے کہاکہ خدا کا خوف کریں یہ نشان کیسے ملتے جلتے ہیں وکیل نے بتایا کہ این اے 86 میں 13 ہزار ووٹ مسترد کئے گئے اور حتمی نتائج مرتب کرتے وقت ہمیں نوٹس نہیں دیا گیا انہوں نے کہاکہ میری ہار کا مارجن 11 ہزار ووٹ ہیں اس موقع پر این اے 86 سے کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار کے وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے انہوں نے کہاکہ بنیادی طور ان کی درخواست دوبارہ گنتی کی تھی اور ادرخواست نہیں دی ہے نہ ہی کسی پولنگ اسٹیشن کا نہیں کہا گیا کہ کہاں دوبارہ گنتی کرائی جائے جس پر الیکشن کمیشن نے این اے 86 سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا، ن لیگ کے ریاض پیرزادہ کی این اے 164 سے کامیابی کیخلاف درخواست پر ممبر سندھ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی،پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ملک اعجاز گڈن کے وکیل پیش ہوئے انہوں نے دوران سماعت موقف اپنایا کہ ہمارے پاس دستیاب فارمز 45 کے مطابق ریاض پیرزادہ ہار چکے ہیں تاہم فارم 47 پر ریاض پیرزادہ کو جتوا دیا گیا ہے الیکشن کمیشن نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
Load/Hide Comments



