سیاست دانوں کے کمزور ہونے کی وجہ خود ہی سیاست دان ہے، راناثنااللہ

فیصل آباد(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر سابق وزیر داخلہ راناثنااللہ خاں نے کہاہے کہ سیاست دانوں کے کمزور ہونے کی وجہ خود ہی سیاست دان ہے،نوا ز شریف ہی ملک کے تما م مسا ئل حل کر سکتے ہیں، 2018ء کے بعدسیاستدانوں کو ذاتی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،عمران خان کسی کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تھا، پو ری اپو زیشن کو جیل میں ڈالنا چا ہتے تھے،اسی با ت پر جنرل با جوہ اور عمرا ن خا ن کے درمیا اختلا فا ت ہو ئے، میرے خلاف منشیا ت کا جھوٹامقدمہ عمرا ن خا ن نے بنایا تھا اور شہزا د اکبر انکے سا تھ ملو ث تھا،جنرل با جوہ نے خود مجھے کہا تھا اس مقدمہ میں میرا کو ئی تعلق نہیں، جمہو ریت کی بنیا د فری ااینڈ فیئر الیکشن ہے، اس وقت پا کستا ن میں کو ئی نئی پا رٹی کی گنجا ئش نہیں ہے، پارلیمنٹ سمیت تمام آئینی ادارے اتنے کمروزہوچکے ہیں کہ مداخلت کی مزاحمت نہیں کرسکتے،جہا ں تک ادارو ں کی با ت ہے توادارے اپنے ریٹا ئرڈ ہو نے والوں کا بھی تحفظ کرتے ہیں، آن لائن کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہاکہ2018کے انتخابات کے بعد اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اور بلا ول بھٹو نے بطور پا رلیما نی لیڈر پیپلز پا رٹی عمران خان کو ساتھ مل کرکام کرنے کی دعوت دی تھی،قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران انہوں نے کہا تھا ہم آپ کے سا تھ ملک کے بہتری کے لئے بیٹھنے کے لئے تیا ر ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ عمران خان اس وقت سب کو جیلوں میں دیکھنا چاہتے تھے اور انکی گفتگو کا انداز ہی اپنا تھاوہ کہتا تھا تمہا ری ایسی کی تیسی میں نے تو تمہیں چھو ڑنا ہی نہیں ہے، میں نے تو تمھیں جیلوں میں ڈالنا ہے،جب ایک سیا ست دا ن دوسرے سیا ست دانو ں کو جیل بھیجنے کیلئے اس حد تک بضد ہو گا، تو یہ معاملہ تو ہو گا، انہوں نے کہاکہ جہا ں تک ادارو ں کی با ت ہے، ادارو ں میں تو کو ئی ایسا معاملہ نہیں دیکھا،ہرا دارہ اپنے کام کرنے والوں کا اور ریٹا ئرڈ ہونے والوں کاتحفظ کرتا ہے اور اس کے ساتھ کھڑا ہوتاہے، انہو ں نے کہا کہ میرے خلاف منشیا ت کا جھوٹامقدمہ عمرا ن خا ن نے بنایا تھا اور شہزا د اکبر انکے سا تھ ملو ث تھا، شہزاد اکبر نے پہلے اسلا م آبا د پو لیس کے سا تھ رابطہ کیا تھا، جب انہو ں نے وزن نہ اٹھا یا، پھر انہو ں نے اے این ایف سے با ت کی،لیکن اے این ایف اس وقت تک میر ے خلا ف مقدمہ نہیں بنا سکتی تھی،جب تک فیض حمید اور قمر جا وید با جوہ اے این ایف کو اجا زت نہیں دیتے اس وقت تک مقدمہ نہیں بن سکتا تھا، میں نے یہ با ت با جوہ صا حب سے پو چھی تھی ان کے منہ پر جب وہ پا ر لیمینٹ میں ایک تقریب میں مو جو د تھے، میں نے کہا کہ میرا اللہ آپ کے اور میرے درمیا ن فیصلہ کرے گا،یہ آپ نے میرے خلا ف مقدمہ غلط بنیا یا ہے، لیکن جنرل با جوہ نے کہا کہ یہ مقدمہ میں نے نہیں بنا یا، اگر آپ کی اجا زت کے بغیر میرے خلا ف یہ مقدمہ بنتا تو بنا نے وا لے کا اگلے دن کورٹ مارشل لا ء ہو جا تا، انہو ں نے کہا کہ عمران خا ن چا ہتے تھے پو ری اپو زیشن کو ختم کر دیا جا ئے اور جیل میں ڈال دیا جا ئے،جب اسٹیبلیشمنٹ نے ان کا ساتھ نہیں دیا، جنرل با جوہ اور عمرا ن خا ن کا جھگڑا اسی با ت پر ہو ا تھا،اس با ت پھر عمرا ن خا ن نے کہنا شروع کردیا کہ یہ میر جعفر اور میر صادق ہے،انہو ں نے کہا کہ ہما ری حکو مت ہے اور میں حکو مت میں مو جو د ہو، سیا ست کا جوا ب سیا ست سے ہی دینا چا ہیے، میں اندر بھی پا رٹی کے ساتھ ہو اور با ہر بھی پا رٹی کے سا تھ ہو، شاہد خا قا ن عبا سی ایک اچھے آدمی ہے بڑے انصا ف گو ہے، ایسے لو گو ں کو پا رٹی میں بیٹھ کر با ت کر نی چا ہیے، اس طر ح کر رویہ اپنا نا اپنی پا رٹی کو چھو ڑ کر نئی پا رٹی بنا نا، اس قسم کی آوازوں کو کمزور کر تی ہے، اس وقت پا کستا ن میں کو ئی نئی پا رٹی کی گنجا ئش نہیں ہے،انہو ں نے کہا کہ مو جو دہ اپو زیشن کی تحریک سے حکو مت کو کوئی خطرہ نہیں، تما م پو لیٹیکل جما عتو ں کو مل کر پیچھے کی بجا ئے آگے کو جا نا چا ہیے، نوا ز شریف، آصف زرداری اور عمران خا ن یہ تینو ں مل کر تما م جما عتو ں کو اکٹھا کر کے پا کستا ن کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔