بھارت پاکستان میں براہ راست قتل کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے،اس قتل میں بھی وہی پیٹرن ہے جو ماضی کے واقعات کا ہے: محسن نقوی

لاہور (آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں براہ راست قتل کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے،لاہور میں قتل کے واقعہ کی بھی پولیس تحقیقات کر رہی ہے،اس قتل میں بھی وہی پیٹرن ہے جو ماضی کے واقعات کا ہے اس لئے شک اسی طرف جارہا ہے،بلوچستان میں 8پنجابیوں کے قتل کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، ان کو زیارات کے ویزے پر لے جایا جارہا تھا، حالیہ جتنے بھی دہشتگردی کے واقعات ہو ئے تمام کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ بندی افغانستان سے ہو رہی ہے،صرف لیسکو میں 83کروڑ یونٹس کی اوور بلنگ کی گئی، ظلم یہ ہے کہ سرکاری محکموں اور صنعتوں کے ساتھ 300یونٹس استعمال کرنے والے غریب صارفین کو بھی اوور بلنگ کی جارہی ہے، ایک گھر میں بھائیوں میں بھی لڑائی ہو جاتی ہے، بہاولنگر واقعہ کو بلا وجہ ایشو بنایا گیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف آئی اے لاہور ریجن کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ہوائی اڈوں پر امیگریشن کاؤنٹرز کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ائیر پورٹس پر روانگی اور آمد کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ای گیٹز کی تنصیب کر رہیہیں اور اس پر کام شروع کر دیا ہے، اس حوالے سے وفاقی وزیر خواجہ آصف سے بات ہوئی ہے اور ہم آنے والے دنوں میں اس حوالے سے دورہ کرنے لگے ہیں، ہم کاؤنٹرز کی تعداد بھی بڑھارہے ہیں تاکہ مسافروں کو انتظار نہ کرنا پڑا۔ ویسے تو ہیتھرو ائیر پورٹ پر جاتے ہیں تو وہاں پر دوسے ڈھائی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے اور میں نے خود انتظار کیا ہے لیکن ہم اپنے لوگوں کو انتظار نہیں کراناچاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمت پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور اس کے ساتھ اوور بلنگ بھی کی جارہی ہے،اس حوالے سے وزیر اعظم سے بات ہوئی ہے،جس طرح کا بھی دباؤ ہوگا ہم ایف آئی اے کو سپورٹ کریں گے۔ اس حوالے سے ایف آئی اے لاہور نے بہت اچھا کام کیا ہے۔اس کے ثبوت موجودہیں کہ صرف لیسکو میں 83کروڑ یونٹس کی اوور بلنگ کی گئی ہے، ظلم یہ ہے کہ سرکاری دفاتر اور صنعتوں کے علاوہ 300یونٹس استعمال کرنے والے غریب صارفین کو بھی اوور بلنگ کی گئی ہے، جو ایکسین گرفتار ہوا ہے وہ تین سو یونٹس والے صارفین کو بھی اوور بل کر رہا تھا۔ جس غریب بے چارے کا گھر نہیں چلتا اس کے ساتھ اس طرح کی زیادتی کرنا ظلم ہے،جب تک اوور بلنگ ختم نہیں ہو گی یہ مہم کسی صورت نہیں رکے گی۔اس حوالے سے ڈی جی ایف آئی اے پر بہت زیادہ دباؤ آرہا ہے لیکن میری سپورٹ ان کے ساتھ ہے اور اس حوالے سے وزیر اعظم سے بھی بات کی ہے۔اوور بلنگ منصوبہ بندی سے ہو رہی ہے جسے روکنا ہمارا فرض ہے۔ اووربلنگ کے خاتمے کے لئے دیگر سرکلز بھی کام شروع کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف بھی مہم چل رہی ہے اور اس میں بہت زیادہ کام کرنا ہے، وزارت توانائی کے ساتھ مل کر بلوچستان اور خیبر پختوانخواہ جہاں پر بہت زیادہ بجلی چوری ہے وہاں پر ٹاسک دیدیا ہے اور امید ہے کہ اچھے نتائج آئیں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بہت جلد سائبر ونگ کی ری ویمپنگ شروع کی جائے گی اور جلد اس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے،بہت سے کمزور قوانین میں ترمیم بھی ہونے والی ہے،ایف آئی اے میں خالی آسامیوں پر بھی فوری بھرتیاں کریں گے،اگر کہیں اچھا افسر ہے اسے لینا ہے تو ہم اس کے لئے تبدیل کر لیں گے۔ وزیر داخلہ نے نوشکئی میں دہشتگردی کے واقعہ کے حوالے سے کہا کہ بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 8افراد کو قتل کیا گیا، جو ایجنٹس انہیں لے کر جارہے تھے وہ خود بھی مارے گئے ہیں، اس کی تحقیقات کی ہیں، ایجنٹس ان لوگوں کو زیارات کے ویزے پر لے کر جارہے تھے اور پر وہاں سے انہیں آگے لے کر جانا تھا، ہیومن ٹریفکنگ پر کام کر رہے ہیں لیکن ابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایف آئی اے میں ترقیوں کے حوالے سے کہا کہ اس حوالے سے صرف نوٹیفکیشن رہ گیا ہے وہ ہو جائے گا۔ایف آئی اے میں پہلے سیاسی دباؤ کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اب کسی طرح کا دباؤ نہیں آئے گا۔انہوں نے لاہور میں عامر تابنا کے قتل کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت پاکستان میں براہ راست قتل کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے اس واقعہ کی بھی پولیس تحقیقات کر رہی ہے،جس طرح کے شک کا اظہار کیا جارہاہے کیونکہ اس قتل میں بھی وہی پیٹرن ہے ،تاہم جب تک تفتیش مکمل نہیں ہوجاتی اس لیے ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی چوری اتنی زیادہ ہے کہ اس کو پورا کرنے کے لئے اوور بلنگ کی جاتی ہے،دو ایکسین گرفتار ہوئے ہیں، ہمیں اس کے لئے کسی سطح پر جانا پڑا جائیں گے،جو ایکسین گرفتار ہوا ہے وہ خود تسلیم کر رہا ہے کہ اس نے اوور بلنگ کی ہے،وہ چھوٹ گئے لیکن آپ دیکھیں گے ہم چھوڑنے والے نہیں ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ جو کمزور قوانین ہیں ان کو مضبوط کرنے کے لئے قانون سازی کریں گے اور آنے والے دنوں میں قانون سازی ہوتی ہوئی نظر آئے گی۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے رانا ثنا اللہ کے بیان کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اچھے دوست اور بھائی ہیں میں ان کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔