آباد کاروں کا معاشی قتل عام کیا جارہاہے،سائرہ بانو

شہدادپور(آن لائن) جی ڈی اے کی رہنما ء سائرہ بانو نے کہا ہے کہ آباد کاروں کا معاشی قتل عام کیا جارہاہے،حکومت نے حاتم طائی کی قبر کو لات ماری، گندم کی قیمت ڈھائی ہزار سے دس ہزار کردی،سندھ سے ذخیرہ دریافت ہوتا ہے تو مبارکباد پنجاب کو دی جاتی ہے،سندھ کے نصیب میں صرف کینسر، ہیپاٹائٹس، خراب پانی اور بے روزگاری ہے،ججوں کو موصول خطوط کا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو نوٹس لینا تھا لیکن حکومت کود پڑی،بھاولنگر واقع میں ادارے اداروں کے سامنے ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا.لیکن پنجاب پولیس کی کچھ ٹائم سے جو ریکارڈ ہے وہ کچھ اچھا نہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سائرہ بانو نے کہا کہ آبادگاروں کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے حکومت نے حاتم طائی کی قبر کو لات ماری اور گندم کی قیمت ڈھائی ہزار سے 10ہزار کر دی لیکن آبادگاروں کو نہ پانی نہ باردانہ نہ کھاد سندھ حکومت صرف پیسہ کمانے میں لگی ہوئی ہے سندھ سے ذخیرہ دریافت ہوتا ہے لیکن مبارکباد پنجاب کو دیتے ہیں. سندھ کی نصیب میں صرف کینسر ہیپاٹائٹس خراب پانی اور بیروزگاری ہے. ججوں کو موصول خطوط کا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو نوٹس لینا تھا لیکن حکومت کود پڑی۔سائرہ بانو نے کہا کہ بھاولنگر واقع میں ادارے اداروں کے سامنے ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا.لیکن پنجاب پولیس کی کچھ ٹائم سے جو ریکارڈ ہے وہ کچھ اچھا نہیں ہے.اب احساس ہوگا کہ کسی کی چادر چاردیواری کا تقدس پامال کییے ہوتا ہے آبادگاروں کو باردانہ نہیں مل رہا، پانی کی قلت ہے اور بلیک مارکیٹ میں زرعی ادویات خرید کر رہے ہیں، جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی حکومت عوام کا استحصال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سے گیس دریافت ہوا لیکن پنجاب کو مبارکباد دی جارہی ہے کیون کہ یہاں کے لوگوں کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں،نہ ہی نوکریاں انہیں کی نصیب میں صرف کینسر، ہیپاٹائٹس، پینے کا خراب پانی ہے. یہاں کوئی کوئی آئین اور قانون نہیں، سندھ کے اسپتالوں میں کوئی سہولت نہیں، اسکول میں تعلیم نہیں ہے۔ بجلی اور گیس کی سہولت، ضلع سانگھڑ سمیت پورے سندھ میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں، عوام اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں، سڑکیں بھی چوروں اور ڈاکوؤں کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ حکمران صرف عوام پر ٹیکس لگا نے میں مصروف ہیں۔ سائرہ بانو نے کہا کہ ججز کو مشکوک خطوط کا چیف جٹسس کو نوٹس لینا چاہیے تھا لیکن حکومت نے درمیان میں مداخلت کی ہر دور میں اداروں پر دباؤ رہا ہے۔ بہاولپور واقعہ میں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا اداروں کے سامنے ادارے آ رہے ہیں۔ پنجاب حکومت کا گزشتہ کچھ عرصے سے کوئی خاص ریکارڈ نہیں رہا لیکن یہاں مضبوط کی لاٹھی طاقتور کا وزن مذاق سمجھا جاتا ہے میڈم سائرہ بانو نے کہا کہ جلد ہی کرپشن اور سماجی برائیوں اور شہدادپور سمز ہسپتال کی کرپشن اور شہدادپور کی صاف پینے کے پانی میں ہونے والے کرپشن اور پریشان آبادگاروں کے مسائل کے حل کے لیے تحریک چلاؤں گے۔