اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان میں اسلام اباد ہائی کورٹ کے ججز کی جانب سے لکھے گئے خط کی سماعت سے قبل سینئر سیاستدان محمود خان اچکزئی کو کمرہ عدالت میں جانے سے روک دیا گیا اور ان کو ایک اہلکار کی جانب سے ناشائستہ جملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا جس پر بعد ازاں پولیس کے اعلی حکام نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں بینچ نمبر ون میں جانے میں اجازت ملی۔محمود خان اچکزائی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ آج جب وہ سماعت میں جا رہے تھے تو ایسے میں ایک حوالدار نے انہیں روکا اور کہا کہ آپ کمرہ عدالت میں نہیں جا سکتے اور انہیں ناشائستہ جملے کسے گئے تاہم اس دوران پولیس کے اعلی حکام اور بعض سینئر میڈیا کے نمائندوں نے مداخلت کی اور اس طرح سے انہیں کمرہ عدالت نمبر ایک میں جانے کی اجازت مل گئی تاہم انہوں نے اس بات پر ا اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔پی ٹی آئی رہنما رہنماعلی محمدخاں بھی موقع پر پہنچ گئے اور واقعہ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کا کام نہیں ہونا چاہیے یہ انتہائی سینیئر سیاست دان ہیں اور صدر مملکت کے انتخاب میں بھی یہ امیدوار تھے وہ یہ سماعت میں بیٹھنا چاہتے ہیں سننا چاہتے ہیں عدلیہ کی ازادی کا معاملہ ہے اس لیے اس طرح کے معاملات میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے سپریم کورٹ سب کے لیے اوپن ہے تو انہیں بھی جانے سے نہیں روکا جانا چاہیے بعد پولیس کے اعلی حکام نے معاملے کو بڑے خوش اسلوبی سے نمٹایااور انھیں کمرہ عدالت تک پہنچایا۔
Load/Hide Comments



