کے پی کے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار، وزیراعلی با ہر بڑھکیں مارتے ہیں اندر وزیراعظم کے پاوں پڑ جاتے ہیں، رہنما پیپلز پارٹی

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی نے خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس بلوانے کے لیے عدالت جانے کا اعلان کردیا ہے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے بعد حکومت سازی کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ انہو ں نے کہا کہ ابھی ضمنی انتخابات بھی ہونے ہیں مگر سینیٹ انتخابات کے بعد حکومت سازی کا عمل پورا ہوجائے گا، انہوں نے کہا کہ ابھی بجٹ آنا ہے، آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے مگر کوشش ہوگی کہ عوام کو ریلیف دیں۔ انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد والے پارلیمان کی بالادستی کے لیے بہت شور مچاتے ہیں، تمام مخصوص نشستوں میں حلف لے لیے گئے ہیں سوائے خیبرپختونخوا کے، ہم نے اسپیکر سے درخواست کی لیکن وہ سیشن نہیں بلارہے ہیں بلکہ وہ ٹائیگر فورس کا نمائندہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم نے پھر گورنر سے بھی درخواست کی انہوں نے آج اجلاس بلانے کا کہا مگر اسپیکر نے نہیں بلایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اجلاس نہیں بلایا جاتا تو ہمیں مجبورا عدالت کا درواز ہ کھٹکھٹا نا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے حکو مت بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ وزیراعلی کے پی کے با ہر بڑھکیں مارتے ہیں اندر جاتے ہیں تو وزیراعظم کے پاوں پڑ جاتے ہیں۔ کرپشن والوں کا سر پھاڑنے کا کہتے ہیں خود ان پر جتنے الزامات ہیں تو انکے لئے تو پتھروں کا ٹرک منگوانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا سابقہ پی ٹی آئی اورسنی اتحاد کونسل پارلیمنٹ میں پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے شور کرتے ہیں۔ مخصوص نشستوں پر سوائے کے پی کے تمام صوبوں میں حلف لے لیے گئے ہیں ہیں۔ انہوں نے دعوی کرتے ہوے کہا کہ 2 تاریخ کو نئے ممبران سینٹ میں ووٹ کاسٹ کرسکیں گے۔ اپوزیشن جماعتیں پانچ سیٹیں کے پی سے جیتیں گی۔ اپنے وقت پر یہ لوگ آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل بعد میں باقی صوبوں میں مت چیخیں۔ ہم صوبوں اور مرکز میں اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ سابقہ فاٹا میں سو ارب کی زبان دی تھی۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں کل بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ ہماری فورسز کے پی میں قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے ہماری سرزمین پاکستان دشمن فورسز استعمال کریں۔ ہمیں بیانات سے آگے نکلنا ہوگا۔ انہوں نے ہمیشہ پاکستان دشمن کے حق میں آواز اٹھائی۔ سائفر میں کہتے ہیں وہاں جاکر کے ہمیں اسٹیبلشمنٹ اور یہاں کہتے ہیں انہوں نے نکالا۔ انہوں نے کہا آج سابقہ پی ٹی آئی کی پانچ فرنچائز ہیں اور ان لوگوں کے اپنے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہمیشہ جھوٹ کا سہارا لینا ان کا وطیرہ ہے۔ الیکشن میں سیاسیجماعتوں پر تحفظات ضرور ہیں۔ ہمارے پاس فورم ہیں تحفظات ہیں تو وہاں رجوع کریں۔ انہوں نے کہا ہمیں اکٹھے بیٹھ کر قانون سازی کے ذریعے چور دروازے بند کرنے ہوں گے۔ مولانا صاحب کہتے ہیں کہ میرے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا۔ وہ جن کیساتھ بیٹھے ہیں ان سے مانگیں کے میری سیٹیں واپس دیں۔ آنے والے سینٹ الیکشن میں حکومت اتحاد کامیاب ہوگا۔ کے پی وزیراعلی نے غیرذمہ دارانہ بیان دیا۔ اس بیان کے بعد کل کو کسی نے یہ ایکٹ کردیا تو کس کیخلاف انکوائری ہوگی کوئی رشوت مانگے تو ادارے ہیں ان سے رابطہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا آج تک گنڈاپور کو یقین نہیں آرہا کہ وہ وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں۔