اسلام آباد(آن لائن)عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف)نے پاکستان کے ساتھ آخری جائزہ مذاکرات کی کامیابی کا اعلامیہ جاری کردیا جس کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ وزارت خزانہ کی جانب سے اہداف پر بروقت عمل کیا گیا،پاکستان نے ادارہجاتی اصلاحات اور ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے اقدامات کیے، آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ اپریل میں اسٹاف لیول معاہدے کی حتمی منظوری دے گا،تفصیلات کے مطابق پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان آخری جائزہ مذاکرات کامیاب ہوگئے، آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں مذاکرات کی کامیابی کی تصدیق کی گئی ہے۔اس پیش رفت کے نتیجے میں پاکستان کے لیے قرض کی آخری قسط کی مد میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالر جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگئی، پاکستان کو 2 اقساط کی مد میں آئی ایم ایف سیایک ارب 90 کروڑ ڈالرز مل چکے ہیں۔آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈکی منظوری کے بعد پاکستان کو آخری قسط جاری کی جائے گی، آخری قسط کے بعد پاکستان کو موصول شدہ رقم بڑھ کر3 ارب ڈالرز ہو جائے گی، آخری قسط ملنے کے ساتھ ہی3 ارب ڈالرکا قلیل مدتی قرض پروگرام مکمل ہوجائے گا۔آئی ایم ایف اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں رواں مالی سال کے دوران مہنگائی ہدف سے زادہ رہنے کی پیشنگوئی ہے،پاکستان کی معیشت کو تاحال معاشی چیلنجز کا سامنا ہے جس کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ نیتھن پوٹر کی قیادت میں آئی ایم ایف وفد نے 14 مارچ سے 19 مارچ تک پاکستان کا دورہ کیا،اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدہ کے تحت آئی ایم ایف وفد نے دوسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات مکمل کیے،اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدہ کے تحت پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر کی آخری قسط ملے گی، پاکستان نے ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے پہلے اقتصادی جائزہ ہی بہتر کارکردگی دکھائی،اہداف پر عملدرآمد کرنے پاکستان کی معیشت کو استحکام اور سازگار ماحول ملے گا، پروگرام کے تحت اہداف پر عملدرآمد کرنے سے پاکستان کی معیشت ریکوری کی طرف گامزن ہے،پاکستان کے ساتھ وسط مدتی پروگرام کے حوالے سے بات چیت کا امکان آنے والے مہینوں میں ہے، ٹیکس بنیاد کو وسیع کرنا اور پبلک فنانس کو مضبوط کرنے جیسے اقدامات کرنے ہونگے، اعلامیہ میں مزید کہاگیا کہ نادار طبقے کے تحفظ کیلئے اعلیٰ ترجیحی ترقی اور سماجی امداد کے اخراجات پر توجہ دینی ہوگی، توانائی شعبے میں پاکستان کو بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا، کیپٹیو پاور ڈیمانڈ کو گرڈ میں منتقل کرنا اور تقسیم کار کمپنیوں کی گورننس اور انتظام کو مضبوط بنانا ہوگا، بجلی چوری روکنے کے حوالے سے مزید موثر کوششیں شروع کرنا ہونگی، پاکستان نے مہنگائی کنٹرول اور معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے بروقت اقدامات کیے ہیں،پاکستان کے دوست ممالک اور امدادی ادارے پاکستان اس کی پالیسی سے مطمئن ہیں،پاکستان نے پالیسی ریٹ سے متعلق اہداف بہتر طریقہ سے حاصل کیے،رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں معاشی ترقی بہتر ہوسکتی ہے،اعلامیہ میں مزید کہاگیا ہے کہ نئے قرض پروگرام حاصل کرنے کیلئے آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر عملدرآمد کرنا لازم ہو گا،معاشی ٹیم نے ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے میڈیم ٹرم فنڈ سپورٹ پروگرام میں دلچسپی ظاہر کی ہے، نئے قرض پروگرام کیلئے پاکستان کو مالیاتی نظم و نسق کو اپنانا ہو گا،نئے قرض پروگرام سے پہلے پاکستان کو ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کے اقدامات کرنا ہوں گے،ٹیکس نیٹ بڑھانے کلئے ٹیکس نیٹ سے باہر شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا، پاکستان کو ٹیکس ایڈمنسٹریشن اور نادار طبقے کے سماجی تحفظ کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے،نئے قرض پروگرام کیلئے پاکستان کو توانائی شعبے کی ریکوریاں بہتر اور اصلاحات لانا ضروری ہوں گی،پاکستان زرمبادلہ ذخائر بڑھانا اور ادارہ جاتی اصلاحات پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہو گا، پاکستان کی اندرونی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے چیلنج کا سامنا ہے،امید ہے کہ نئی منتخب حکومت معاشی اہداف پر بروقت عملدرآمد کرے گی،امید ہے کہ پرائمری بیلنس 401 ارب روپے یعنی ڈی جی پی کا 0.4 فیصد تک رہے گا، نئی منتخب حکومت نے ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے،امید ہے نئی منتخب حکومت بجلی کے نرخوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ کرے گی،نئی منتخب حکومت نے گیس ریٹ کے فیصلے بروقت کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے،نئی منتخب حکومت غریب طبقات کو بجلی اور گیس کے ریٹ بڑھنے میں تحفظ دے گی،نئی منتخب حکومت کی بجلی اور گیس کے بلوں کی وصولیاں بہتر بنانے اور سرکلر ڈیٹ نہ بڑھنے کی یقین دہانی کرائی ہے،آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی حالت بہتر ہوئی ہے، معاشی اعتماد بحال ہو رہا ہے، پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فنانسنگ مل رہی ہے، حکومت کو معاشی بحالی کے لیے اصلاحات جاری رکھنی چاہیے۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ حکومتِ پاکستان نے بجلی اور گیس ٹیرف کی بروقت ایڈجسٹمنٹ اور رواں مالی سال گردشی قرضے میں اضافہ روکنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔نومنتخب حکومت نے ٹیکس نیٹ (ٹیکس دہندگان کی تعداد) بڑھانے اور مہنگائی کم کرنے کے کے لیے اقدامات اٹھانے کی بھی یقین دہانی کروائی ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو ایکسینچ ریٹ مستحکم رکھنے اور فاریکس مارکیٹ میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات کی بھی یقین دہانی کروائی ہے۔اعلامیہ میں آئی ایم ایف نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی منتخب حکومت معاشی اہداف پر کاربند کرے گی، توقع ہے کہ پرائمری بیلنس 401 ارب روپے تک رہے گا اور پرائمری بیلنس معیشت کا 0.4 فیصد رہے گا۔آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں نئے قرض کی شرائط بھی سامنے آگئی ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان نے نئے وسط مدتی قرض پروگرام کے لیے دلچسپی ظاہر کی ہے، جس پر آئندہ ماہ مذاکرات ہوں گے۔آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا کہ نئے قرض پروگرام کے تحت ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا، کم ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں پر ٹیکس لگایا جائے گا، ٹیکس ایڈمنسٹریشن کو بہتر بنایا جائے گا۔اعلامیے کے مطابق توانائی شعبہ کی پیداواری لاگت وصول کی جائے گی، بجلی کا ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن کا نظام بہتر کیا جائے گا، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی انتظامیہ کو بہتر کیا جائے گا۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ فاریکس مارکیٹ میں شفافیت لائی جائیگی، خسارے کا شکار سرکاری اداروں میں گورننس کا نظام بہتر کیا جائے گا۔
Load/Hide Comments



