راولپنڈی (آن لائن)اسلام آباد کی خصوصی احتساب عدالت کے جج ناصر جاویدرانا نے تحریک انصاف کے سابق چیئرمین اور ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم کے خلاف 190ملین پاؤنڈ کے مالیاتی سکینڈل پر مبنی القادر ٹرسٹ ریفرنس میں نیب کے3گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد سماعت 16مارچ تک ملتوی کر دی گزشتہ روز سماعت کے موقع پرملزمان کے وکلا بیرسٹر سلمان صفدر، بیرسٹر علی ظفر، عثمان گل اور ظہیر عباس چوہدری کے علاوہ نیب کے پراسیکیوٹر عرفان بھولا عدالت میں پیش ہوئے اس موقع پر سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی موجودد تھیں جبکہ شاہ محمود قریشی کی اہلیہ، بیٹا اور بیٹی بھی ملاقات کیلئے جیل کے باہر موجودتھے جیل میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے گزشتہ روز سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے جیل کے اندر اور اطراف میں سکیورٹی انتہائی الرٹ کی گئی تھی جیل حکام نے صرف 6 وکلا کو اندر جانے کی اجازت دے دی جبکہ میڈیا کو جیل سے 2 کلو میٹر دور کووریج کی اجازت دی گئی وکلا کے تاخیر سے آنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا جس پر بیرسٹر سلمان صفدرنے بتایا کہ وہ صبح دس بجے سے آئے ہوئے ہیں لیکن انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی ہمیں جیل کے اندر پوری دستاویزات لانے کی بھی اجازت نہیں بعد ازاں دوران سماعت فارن آفس، سٹیٹ بینک، کیبنٹ ڈویڑن اور القادر یونیورسٹی سے متعلقہ 3گواہوں نے شہادت قلمبند کروائی جن میں سے دو گواہوں پر ملزمان کے وکلا نے جرح بھی مکمل کر لی اس طرح اب تک مجموعی طور پر6گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں۔دریں اثناسابق چیئرمین نے میڈیا سے گفتگومیں کہا کہ میری ماضی کی ساری پیشگوئیاں سچ ثابت ہوئیں اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ہے کیونکہ اب مہنگائی میں اضافہ ہو گا اورعوام باہر نکل آئے گی انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں سب کچھ جھوٹ پر چل رہا ہے،الیکشن جھوٹے ہوئے،اداروں کی ساکھ ختم کر دی گئی ابھی سیکورٹی تھریٹس کا کہا جا رہا ہے یہ بھی جھوٹ ہے اس وقت سارا ملک جھوٹ پر چل رہا ہے انہوں نے کہا کہ ادارے تباہ ہو چکے ہیں انتخابات میں تحریک انصاف کو میدان میں نہیں آنے دیا گیااگرچہ ووٹر نے پولنگ ڈے پر ان سے بدلہ لیالیکن ووٹ کے ذریعے تبدیلی کو تسلیم نہیں کیا گیاانہوں نے مینڈیٹ چھین کر قوم کی امید ختم کر دی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈیل کی کوئی بات نہیں ہو رہی وکلا تک سے میری ملاقاتیں بند کر دی گئی ہیں ہمارا پرامن احتجاج کا جاری رہے گاانہوں نے کہا کہ ہم انتخابات میں دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ بھی جائیں گے،سینیٹ الیکشن میں پھر پیسہ چلنے والا ہے گزشتہ سینٹ انتخابات میں گیلانی کا بیٹا پکڑا گیاجسے آج تک سزا نہیں ہوئی سماعت کے بعدبیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آج 2 گواہان پر جرح مکمل ہوئی 7 گواہان میں سے 6 گواہان کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ سابق چیئرمین کی طبیعت ٹھیک ہے ان سے ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے لیکن ہم نے درخواست کی تھی اور ملاقات میں پارٹی سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی ہے چونکہ سینٹ کے انتخابات کا اعلان ہوا ہے 15 اور 16 کو انتخابات ہوں گے جس کے لئے امیدواران کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے اس پر پارٹی فائنل فیصلہ کرے گی انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں نگران حکومت کے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے نگران حکومت ایک سیاسی جماعت کے پیچھے بنے اور اب بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں موجودہ حکومت کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں رہی اس کی مذمت کرتے ہیں حکومت ہمیں پیچھے دھکیل رہی ہے اور کووریج کو بھی محدود کر دیا گیا دہشت گردی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے سابق چیئرمین سے ملاقات میں ہمیں اعتماد میں لینا ہو گا ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں ہمیں پارلیمان میں بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔
Load/Hide Comments



