اسرائیل نے رمضان میں مسلمانوں کی مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی زیادہ رسائی کی تجویز کو مسترد کردیا

یروشلم(آن لائن) اسرائیل نے رمضان میں مسلمانوں کی مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی زیادہ رسائی کی تجویز کو مسترد کردیا،اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ رمضان کے پہلے ہفتے کے دوران مسلمانوں کی اتنی ہی تعداد کو مسجد تک رسائی دیں گے جتنی تعداد کو پہلے اجازت دی تھی۔ اس امر کا اعلان وزیراعظم کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کیا گیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان میں جان بوجھ کر مسجد اقصی کے لیے ‘ٹیمپل مانٹ’ کا یہودی نام استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس بارے میں مسلمانوں کے اولین حق کا شائبہ پیدا نہ ہو۔ بیان کے مطابق یہ تعداد وہی ہو گی جو پچھلے رمضان کے دوران تھی، تاہم رمضان کے دوران ہر ہفتے صورت حال کا جائزہ لے کر اس تعداد میں کمی بیشی کی جاسکے گی۔ ‘یاد رہے ہر سال مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس میں نماز و تراویح اور ختم قرآن کا اہتمام کریں۔ تاہم اس میں اسرائیلی فوج کی طرف سے رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔ رواں سال غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کے لیے رہنا مزید دوبھر کر دیا ہے۔اسی تناظر میں بین گویر نے کہا ہے کہ ‘ہم مسلمانوں کے مسجد اقصی اور یروشلم میں داخلے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے ہیں۔’ بین گویر کے مطابق ‘یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے بچوں اور عورتوں کو یرغمال بنائیں اور ہم انہیں حماس کے لیے مسجد اقصی میں خوش ہونے کا موقع دیں۔ ‘بین گویر کے اس بیان سے پہلے امریکی ترجمان میتھیو ملر نے مسلمانوں کے مسجد اقصی میں داخلے کی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ صرف مسلمانوں کے مذہبی حقوق کا نہیں ہے بلکہ اس تعلق براہ راست اسرائیل کی سلامتی کے ساتھ بھی ہے۔ یہ اسرائیلی سلامتی کے لیے بھی اچھا نہیں ہے کہ وہ مغربی کنارے میں آگ کو بھڑکائے۔’دوسری جانب حماس نے رمضان کے شروع ہونے سے پہلے ہی فلسطینی عوام سے اپیل کر رکھی ہے کہ وہ رمضان کے دوران مسجد اقصی میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں جائیں۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کو اجلاس کے لیے بلایا تھا اور رمضان کے سلسلے میں اہم فیصلے کیے ہیں۔