غیر قانونی آبادکاری پالیسی کے ذریعے، اسرائیل “زمین پر ناقابل واپسی حقائق” پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے،نگران وزیر قانون

اسلام آباد(آن لائن)ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان کا فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں ایک مضبوط کیس ہے۔پاکستان نے آج ہیگ میں کیس کی سماعت میں عالمی عدالت انصاف کے سامنے اپنا زبانی بیان پیش کیا۔مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی پالیسیوں اور طرز عمل سے پیدا ہونے والے قانونی نتائج سے متعلق سماعت جاری ہے۔سماعت کے لیے پاکستان کے بین وزارتی وفد کی سربراہی نگران وفاقی وزیر قانون و انصاف احمد عرفان اسلم کر رہے تھے، ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نگران وزیر قانون و انصاف نے زبانی بیان میں کہا اسرائیلی قبضے نے فلسطینیوں کے حق خودارادیت کے استعمال میں شدید رکاوٹیں ڈالی ہوئی ہیں۔نگران وفاقی وزیر قانون احمد عرفان اسلم نے کہا کہ غیر قانونی آبادکاری پالیسی کے ذریعے، اسرائیل “زمین پر ناقابل واپسی حقائق” پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس کا مقصد اسرائیل کے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنا اور یروشلم میں مقدس مقامات تک رسائی سے انکارہے، اسرائیلی پالیسیاں اور طرز عمل فلسطینیوں کے خلاف منظم نسلی امتیاز اور نسل پرستی کے مترادف ہیں،اگر عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو ” مسلسل سنگین غلطیوں ” سے نہیں روکا تو وہ اپنے عدالتی کاموں کو انجام دینے میں ناکام رہے گا،یہ زبانی سماعت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب فلسطینیوں کو اسرائیلی قابض فوج کے وحشیانہ حملے کا سامنا ہے۔پاکستانی حکومت وعوام آئی سی جے سمیت تمام عالمی فورمز پر اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اپنی غیر متزلزل اظہار یکجہتی کرتے رہتے ہیں۔پاکستان فوری غیر مشروط جنگ بندی، غزہ کے محصور لوگوں کے لیے مستقل, بلا روک ٹوک انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیتا ہے۔پاکستان ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔فلسطین کی جون 1967 سے پیشگی سرحدوں کی بنیاد پر ایسی فلسطینی ریاست جسکا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔