پشاور(آن لائن)دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مظاہرہ چارسدہ میں منعقد ہوااحتجاجی مظاہرے سے اے اینپی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کہا کہ چیف جسٹس آزاد اور بااختیار ہونے کا ثبوت دیں، دھاندلی کی جوڈیشنل انکوائری کرائیں ہم عدلیہ کے سامنے پیش ہوں گے اور انکو بھی پیش کریں گے جن سے پیسوں کا تقاضہ کیا گیایہ قبول نہیں کہ کاکول میں بھرتی ہونے والے قوم کے مستقبل کے فیصلے کریں آئین میں وردی والوں کا کردار چوکیداری ہینہ کہ حکمرانی اب ان کو سیاست، پارلیمان اور جمہوریت سے ہاتھ نکال کر یا بیرک اور یا بارڈر جانا ہوگاچارسدہ کے عوام نے 20 فروری کو صوابی میں ہونے والے فیصلے پر مہر ثبت کردیشکر ادا کرتے ہیں کہ پارلیمان میں بیٹھے فوجی ٹاٹس میں اے این پی شامل نہیں ہمیں پارلیمان سے باہر کرنے والوں نے ہمیں اپنی اصل سیاست کی طرف لوٹا دیا ہے ریاست اور ریاستی اداروں کو بتانا چاہتے ہیں کہ پچھلے سو سال سے اپنی قوم کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں پچھلے سو سال میں ہمارے انداز مختلف مگر سوالات اور شکایات ایک ہی ہیں پختون بھی پاکستان کا حصہ ہیں اور یہ ملک ہمارا بھی ہے تاریخ پر نظر دوڑائے تو ہمیں یہی پیغام دیاگیا ہے کہ اس ملک پر ہمارا کوئی حق نہیں پختونوں اور ہر عام و خاص کیلئے ووٹ کا حق انگریز سے باچا خان نے جیتا تھاہمارے ووٹ پر پہلا ڈاکہ پاکستان بننے کے دو ہفتے بعد ڈالا گیا تھاخدائی خدمتگاروں نے اسکے خلاف احتجاج کیا تو بابڑہ میں چھ سو سے زائد خدائی خدمتگاروں کو شہید کیا گیاپاکستان میں پہلے انتخابات کے بعد منڈیٹ چوری کرنے کی خاطر آدھا پاکستان کھو دیاپنجاب کوحکمرانی دلانے کیلئے بنگال میں جو مظالم کئے گئے اسکی تاریخ دنیا کے سامنے ہے آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ مارشل لا نافذ کرنے اور آئین کو توڑنے والے کی کیا سزا ہوگی؟آمروں نے ہر دفعہ آئین پامال کیا اور پیغام دیا کہ بندوق کے سامنے عوام کی کوئی حیثیت نہیں آمروں نے پاکستان میں ایسے انتخابات بھی کرائے ہیں جہاں سیاسی پارٹیوں کو حصہ لینے کی بھی اجازت نہیں تھی ضیا الحق کے دور میں پاکستان کی سیاست میں جو گند پیدا کیا گیا جو آج تک سیاست کو بدنام کررہے ہیں میثاق جمہوریت کے بعد فوج نے عمران کی شکل میں ایک نیا بچہ پیدا کیاہم عدم تشدد کے پیروکار ہیں، کبھی بھی تشدد اور بندوق کے سامنے نہیں سر نہیں جھکا سکتے پاکستان میں جنگ صرف وسائل اور اس پر اختیار کی ہے ہم طاقت اور اختیار کا محور صرف عوام کو سمجھتے ہیں جبکہ بندوق والے اس سے انکاری ہیں ہم پختونوں کے وسائل پر پختونوں کا حق چاہتے ہیں وہ پنجاب کے علاوہ سب کو غلام سمجھتے ہیں ہم نے پنجاب کو نہ کبھی آقا مانا ہے اور نہ کبھی مانیں گے، خواہ ہمارا سر کیوں نہ قلم ہوجب بھی ہماریراستے نہیں روکے جائیں گے تو پختونخوا میں مینڈیٹ صرف اے این پی کا ہوگا.
Load/Hide Comments



