منڈی بہاؤ الدین (آن لائن) مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک دشمن سے پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہوئی اور نوازشریف کا تختہ الٹ دیا گیا،نواز شریف کے دور میں پنجاب کے تمام اضلاع میں نئے ہسپتال بنائے گئے، مفت ادویات دی گئیں،ہم نے نوجوانوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ دیئے مگر ایک فتنے نے نو مئی کو نوجوانوں کو انتشار کی سیاست سکھائی،اس فتنے کے باعث 2014ء میں چینی صدر کا دورہ ملتوی ہوا، نوجوان نسل اس ملککا سرمایہ ہیں آئندہ حکومت ملی تو نوجوانوں کو دوبارہ لیپ ٹاپ سکیم اور بے روزگاری الاؤنس شروع کرینگے،قوموں کی زندگیوں میں چیلنجز آتے رہتے ہیں ہم سب نے مل کر ان چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے اور ملک اور عوام کو خوشحال بنانا ہے، آپ نے آٹھ فروری کوشیر پر مہر لگا کر اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل پر مہر لگا کر نواز شریف کو دوبارہ وزیراعظم بنائے تاکہ ملک میں ترقی کا سفر وہی سے شروع ہوسکے جہاں ختم کیا تھا۔ منڈی بہاؤ الدین میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے کہا کہ یہاں آکر بہت خوشی ہورہی ہے قائد نواز شریف نے کہا تھا کہ منڈی والوں کو میرا سلام کہنا میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب 2013ء کے الیکشن میں آپ نے نواز شریف کو تیسری مرتبہ کامیاب کروایا تو فوراً سازش شروع ہوگئی آپ کو یاد ہوگا کہ چودہ اگست 2014ء کو یوم آزادی وہ دن ہوتا ہے جب قوم ساری اکٹھی ہوتی ہے سارے پاکستان کا جھنڈا بلند کرتے ہیں مگر یہ پہلی بار ایسا ہوا کہ چودہ اگست 2014ء وہ دن تھا جب لانگ مارچ کروایاگیا نواز شریف کیخلاف پاکستان کیخلاف اور جنہوں نے لانگ مارچ کیا اور جنہوں نے کروایا وہ سب آپ جانتے ہیں میں یہ تاریخ مختصر انداز میں آپ کوبتا رہا ہوں کہ قوموں کی زندگی میں جب چیلنجز آتے ہیں تو قوم اور لیڈر مل کر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں آپ کویاد ہوگا کہ یہ لانگ مارچ لاہور سے شروع ہوا اور اسلام آباد تک راستے میں جو کچھ ہوا وہ دلخراش مناظر نہیں بھلائے جاسکتے پھر دھرنا شروع ہوا پارلیمنٹ کو آگے لگانے باتیں ہوئیں یہ سب کون کروا رہا تھا آپ سب جانتے ہیں چین کے صدر نے دورہ کرنا تھا نواز شریف کے ساتھ بجلی کے منصوبوں کے معاہدے صعت و زراعت کے معاہدے اور پاکستان کے چاروں صوبوں میں سڑکوکا جال اور پاکستان بھر میں ترقی و خوشحالی کے چھیالیس ارب کے منصوبے مگر پی ٹی آئی نے ڈی چوک میں جگہ نہیں چھوڑی اورمنتیں کی گئیں خدا کیلئے پاکستان کیلئے یہ جگہ چھوڑ دو مگر وہ نہیں مانے اور چین کے صدر کا دورہ ملتوی ہوگیا پھر سولہ دسمبر کو پشاور سکول میں ایک واقعہ ہوا اور وہ پھول جو ابھی کھلے ہی نہیں تھا وہ مرجھا گئے تب جا کر یہ دھرنا ختم کروایاگیا اور اگلے سال 2015 کو چین کے صدر آئے پانچ ماہ کی تاخیر کے بعد اور وہ معاہدے قائم ہوئے نواز شریف کے ساتھ اور آپ گواہ ہیں کہ وہ زمانہ تھا جب بیس بیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ تھی اور لوڈ شیڈنگ نے پاکستان کی زراعت کو ختم کردیا تھا ایکسپورٹ ختم ہوگئی تھیں مگر نواز شریف نے ہمت نہیں ہاری اور پھر آپ نے دیکھا کہ چینی سرمایہ کاری کے ساتھ سعودی عرب کی مالی امداد اور پاکستان کے اپنے وسائل کے ساتھ دس ہزار میگا واٹ بجلی نواز شریف نے دو ہزار سترہ میں قوم کے حوالے کردی اندھیرے ختم ہوگئے زراعت ہری ہوگئی ٹیوب ویلوں میں پانی آنا شروع ہوگیا لیکن پھر کیا ہوا جو لوگ نہیں چاہتے تھے پاکستان ترقی کرے انہوں نے دو ہزار اٹھارہ میں نواز شریف کا تختہ الٹ دیا گیا اور ملک کو ایک بار پھر لوڈ شیڈنگ اور اندھیروں میں ڈبودیاگیا دہشتگردی کے سپرد کردیاگیا۔
Load/Hide Comments



