اسلام آباد(آن لائن)جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پاکستان اور ایران کی قیادت کوباہمی تعاون سے خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرنے کی اپیل کر دی اور کہا کہ صورتحال کو باہمی اعتماد سے کنٹرول نہ کیا گیا تو دشمن قوتیں فائدہ اٹھا سکتی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ برادر پڑوسی ملک ایران اور پاکستان کے تعلقات برادرانہ،مضبوط،گہرے، تاریخی اور صدیوں پر محیط ہیں،ایران کو کوئی شکایت یا غلط فہمی تھی تو خود کاروائی کرنیکی بجائے پاکستان سے بات چیت کرنی چاہئے تھی،اعتماد میں لئے بغیر کارروائی کئی خدشات کو جنم دیتا ہے،ایران پاکستان کے تعلقات کی نوعیت ایسی نہ تھی کہ ایران پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر اس طرح کی غیر معمولی کاروائی کرے،پاکستان کی جوابی کارروائی ہر چند کہ ایک طرح کا احتجاج نوٹ کرانا تھا تاہم دونوں ممالک مزید طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی ذرائع کو استعمال میں لاتے ہوئے رابطے اور گفتگو سے باہمی تعلقات کو معمول پر لانے کا آغاز کریں اور تلخی میں مزید اضافے کو روکنے کیلئے پرامن اقدامات کریں،صورتحال کو باہمی اعتماد سے کنٹرول نہ کیا گیا تو دشمن قوتیں فائدہ اٹھا سکتی ہے،کارروائی سے ایک دن قبل انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایران کو اگر کوئی شکایت یا غلط فہمی تھی تو خود کاروائی کرنیکے بجائے پاکستان سے بات کرتا۔ ایران پاکستان تعلقات کی نوعیت ایسی نہیں کہ ایران پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر اس طرح کی غیر معمولی کاروائی کرے، دونوں ممالک مزید طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی ذرائع کو استعمال میں لاتے ہوئے تعلقات کو معمول پر لانے کا آغاز کریں مولانا فضل الرحمان نے کہا تلخی میں مزید اضافے کو روکنے کیلئے پرامن اقدامات کیے جائیں۔ صورتحال کو باہمی اعتماد سے کنٹرول نہ کیا گیا تو دشمن قوتیں فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ کاروائی سے ایک دن قبل انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے۔
Load/Hide Comments



