راولپنڈی (آن لائن)ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف پر مشتمل خصوصی الیکشن ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 56اور57(راولپنڈی VاورVI)سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف دائر اپیل پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، حلقہ این اے 55سے مسلم لیگ (زیڈ)کے سربراہ محمد اعجاز الحق، تحریک انصاف کے رہنما محمد بشارت راجہ،اور پیپلز پارٹی کے رہنما بابر جدون کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیئے ہیں عدالت نے متعلقہ ریٹرننگ افسران کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے تینوں اپیل کنندگان کو انتخابات میں حصہ لینے کی ا جازت دے دی ہے جبکہ جہلم کی2نشستوں سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی اپیلوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ریٹرننگ افسران کو طلب کر لیا ہے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرازق اور ان کے معاون سردار شہباز عدالت میں پیش ہوئے وکلا صفائی کا موقف تھا کہ شیخ رشید پر اعتراضات میں زمین کے فرد، اور ریسٹ ہاؤس کے واجبات سمیت جو بھی دستاویزات لگائی گئی وہ غلط اور فرضی تھیں مری میں اپنی رہائش گاہ ہونے کی وجہ سے شیخ رشید نے کبھی کسی ریسٹ ہاؤس میں قیام نہیں کیا جبکہ کاروبار کے حوالے سے ایف بھی آر کا منسلک کردہ ریکارڈ درخواست گزارکی کلیریکل غلطی تھی جس کی درستگی کر کے معاملہ کلیئر کیا جاسکتا تھا شیخ رشید پر اعتراض تھا کہ انہوں نے اپنے کاغذات میں ”میسرز گلومبرگ“کے نام سے ظاہر کردہ کاروبار کی مالیت50ہزار روپے ظاہر کی لیکن اس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں جبکہ شیخ رشید نے اپنے اثاثہ جات کی کل مالیت 3کروڑ93لاکھ93ہزار711روپے ظاہر کی جو ان کے کاروبار سے مطابقت نہیں رکھتی اسی طرح 94لاکھ 42ہزار 971روپے نقدی کے ساتھ بنک میں ظاہر کی گئی50 کروڑ 40 لاکھ78ہزار954روپے کی رقم بھی اس کاروبار سے مطابقت نہیں رکھتی اسی طرح کاغذات نامزدگی کے ساتھ دیئے گئے بیان حلفی میں مالی سال2021-22کے ذرائع آمدن واضح نہیں کئے گئے اور 23کروڑ50لاکھ 84ہزار600روپے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اسی طرح امیدوارنہ صرف مری میں محکمہ جنگلات کے ریسٹ ہاؤس کا نادہندہ ہے بلکہ اس نے موضع سہال راولپنڈی میں خسرہ نمبر 15644کے تحت واقع اپنی اراضی بھی پوشیدہ رکھی جس پر امیدوار کو طلب کیا گیا اور فریقین کا موقف تفصیل سے سنا گیا فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شیخ رشید نے دو حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے اور ایک حلقے میں اپنے کاروبار ”میسرز گلومبرگ“ کو بیرون ملک اور دوسرے حلقے میں یہ کاروبار پاکستان میں ظاہر کیا اس طرح امیدوار کی جانب سے غلط معلومات فراہم کی گئیں اس طرح امیدوار نے اس طرح1973کے آئین کی سیکشن 63(1)(O) اور الیکشن ایکٹ2027کے سیکشن 62(9)(C) کی خلاف ورزی کے بعد امیدوار پارلیمنٹ کا رکن بننے کی اہلیت نہیں رکھتاجس پر شیخ رشید نے اپنے وکلا سردار عبدالرازق اور سردار شہباز خان کے ذریعے ریٹرننگ افسران کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا گزشتہ روز فریقین کا موقف جاننے کے بعد ٹریبونل نے ریٹرننگ افسران کے فیصلے کالعدم قرار دے کر شیخ رشید کے کاغذات درست قرار دے دیئے دریں اثناٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے55سے مسلم لیگ(ضیا الحق) کے سربراہ اعجاز الحق کے کاغذات نامزدگی منظور کرتے ہوئے اعتراضات سے متعلق ریٹرننگ افسر کے فیصلے کوکالعدم کردیا گزشتہ روز سماعت کے موقع پر اعجازالحق کے وکیل شہریار نواز ملک عدالت میں پیش ہوئے اسی طرح این اے 55 سے سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کے کاغذات منظور کر تے ہوئے ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیاٹریبونل نے راجہ بشارت خلاف تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی راجہ بشارت کے خلاف 9مئی کو جی ایچ کیو حملے سمیت دیگر مقدمات میں نامزد ہونے کے علاوہ بعض اعتراضات لگائے گئے تھے،این اے 55 راولپنڈی کینٹ سے پیپلزپارٹی کے رہنمابابر سلطان جدون کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کرتے ہوئے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیاادھر ٹریبونل نے جہلم کی 2 نشستوں سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف فواد چوہدری کی اپیلوں پر نوٹس جاری کر دیئے ہیں گزشتہ روز ابتدائی سماعت کے موقع پرفواد چوہدری کی جانب سے ان کے بھائی فیصل فرید عدالت میں پیش ہوئے جن کا موقف تھا کہ فواد چوہدری کو سیاسی بنیادوں پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اورفواد چوہدری کو الیکشن سے باہر رکھنے کے لئے ان کے خلاف بوگس اعتراض لگا کر کاغذات مسترد کئے گئے ہیں۔
Load/Hide Comments



