سرکاری ملازمین کے بچوں کونوکری دین کی خیراتی پالیسیاں کیوں بنائی جاتی ہیں؟چیف جسٹس آف پاکستان

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے جنرل پوسٹ آفس اسلام آباد میں بھرتی کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ سرکاری ملازمین کے بچوں کو ترجیحی بنیادوں پر نوکری دینے کی خیراتی پالیسیاں کیوں بنائی جاتی ہے؟ ایسی پالیسی کو اٹھا کر باہر پھینک دینا چاہیے، آئین ہر چیز سے بالا تر ہے۔اس طرح کی پالیسی بناکر آئین کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں، ہمت پکڑیں اور وزیراعظم کو لکھیں کہ یہ پالیسی غلط ہے،انھوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روزدیے ہیں۔جنرل پوسٹ آفس اسلام آباد میں بھرتی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیا کہ کیاوزیراعظم کے پاس یہ اختیار ہے کہ خود سے پالیسی تبدیل کرے؟ سرکاری ملازمین کے بچوں کو ترجیحی بنیادوں پر نوکری دینے کی خیراتی پالیسیاں کیوں بنائی جاتی ہے؟چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اس طرح کی پالیسی بناکر آئین کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں، ہمت پکڑیں اور وزیراعظم کو لکھیں کہ یہ پالیسی غلط ہے، ترجیحی بنیادوں پرصرف سرکاری ملازمین کے بچوں کو نوکری کیوں ملے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیٰسی نے استفسار کیا کہ کیا باقی بچے پاکستانی نہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ یہ پالیسی سابقہ حکومت کے دور میں بنی، جس پر چیف جسٹس نے مکالمہ کیا کہ پھر کہہ دیں کہ سابقہ حکومت آئین سے بالا تر تھی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیٰسی نے ریمارکس دیے کہ ایسی پالیسی کو اٹھا کر باہر پھینک دینا چاہیے، آئین ہر چیز سے بالا تر ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اس معاملے پر حکومت سے ہدایات لینے کی استدعا کی۔اس پرعدالت نے کہا کہ ہم اٹارنی جنرل کو طلب کرتے ہیں۔بودازاں عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کونوٹس کرتے ہوئے مزیدسماعت غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔