مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ اجلاس میں اسلام آباد کے امیدواروں کے انٹرویوز کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی

لاہور (آن لائن) مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس میں اسلام آباد کے امیدواروں کے انٹرویوز کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی۔ذرائع کے مطابق این اے 46 سے امیدواروں کے پہلے انٹرویوز کئے گئے اور مسلم لیگ ن کی قیادت نے انٹرویو اور جوابات مختصر رکھنے کی ہدایت کی، پہلا انٹرویو این اے 46 سے امیدوار انجم عقیل کا ہوا ،انٹرویو میں صدر مسلم لیگ ن نے انجم عقیل سے گزشتہ 3 انتخابات ہارنے کی وجوہات پوچھیں، انجم عقیل نے 2018 میں انتخابات ہارنے کی وجہ پی ٹی آئی کے لاڈلے ہونا بیان کیا جس پر انجم عقیل سے سوال کیا گیا کہ آپ 2013 میں ماحول سازگارہونے کے باوجود الیکشن کیوں ہارے تھے جس پر انجم عقیل نے جواب دیا کہ علیحدگی میں آپکو ساری وجوہات سے آگاہ کردوں گا۔دوسرا انٹرویو ذیشان نقوی کا ہوا، ذیشان نقوی نے نواز شریف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فخر ہے، آپکا استقبال کرنے اسلام آباد ائیر پورٹ پر موجود تھا،ذیشان نقوی کی بات پر نواز شریف مسکرا دیئے۔ ذیشان نقوی نے کہا کہ اسلام آباد میں ملتان اور کراچی سے لوگ الیکشن جیت کر ایم این اے بنے،نواز شریف نے ذیشان نقوی سے سوال کیا کہ ذیشان نقوی وہ کون لوگ تھے،، ذیشان نقوی نے جواب دیا کہ جاوید ہاشمی ملتان سے اور اسد عمر کراچی سے یہاں آکر الیکشن لڑے،ذیشان نقوی نے حلقہ این اے 46 کی صورتحال سے آگاہ کیا، اسلام آباد کے حلقہ این اے 47 سے پہلا انٹرویو راجہ وقار ممتاز کا ہوا، وقار ممتاز نے چیف آرگنائزر مریم نواز کو مری سے واپسی پر اپنے استقبالیہ کیمپ کی یاد دلائی اور کہا کہ میں وہ ورکر ہوں جس نے قائد اور مریم بی بی کی مری واپسی پر ہمیشہ پرتپاک استقبال کیا،تحریک نجات کا آغاز بیگم کلثوم نواز مرحوم نے ہمارے گھر سے کیا تھا، راجہ وقار ممتاز نے اپنی فائل مریم نواز کو دی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے راجہ وقار ممتاز کی تعریف کی اور کہا میں آپکو جانتی ہوں .