پاکستان غریب ملک نہیں، مسئلہ اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کی سوچ میں ہے ،آصف علی زرداری

گڑھی خدا بخش(آن لائن)سابق صدر و شریک چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان غریب ملک نہیں، مسئلہ اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کی سوچ میں ہے،پاکستان کو اللہ نے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے،عوام کے حق کی ہمیشہ حفاظت کرینگے، ہم نے 1973ء کا آئین بحال کیا، بھٹو ریفرنس کی سماعت شروع ہونے پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے حق ادا کردیا کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے زبان دی اور اس سے پھر گیا ،بلاول نے اپنے منشور میں جتنے بھی وعدے کئے ہیں وہ پورے کرینگے،ہمیشہ قائد عوام، محترمہ شہید اور پیپلز پارٹی کا نام زندہ رکھا ہے،کارکنان نے ہمیشہ شہید محترمہ اورشہید ذوالفقار کی شمع کو جلائے رکھا، اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کو غریب کی غربت نظر نہیں آتی،پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنائینگے تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں ہمیں یاد رکھیں۔گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو شہید کی سہولویں برسی کی مناسبت سے منعقد جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زراری نے کہا کہ ’ہم نے 1973 کے آئین کو بحال کیا، پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ وسائل سے نوازا ہے، پاکستان غریب ملک نہیں صرف اسلام آباد غریب ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کی سوچ کا ہے، اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کی سوچ نہیں جاگتی، عوام کے مسائل صرف سیاستدانوں کو نظر آتے ہیں، پیپلز پارٹی نے عوام سے کیا گیا ہر وعدہ پورا کیا ہے، عوام کا حق سنبھالا ہے اور آئندہ بھی عوام کا حق ادا کرتی رہے گی۔آصف علی زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت شروع ہونے پر کہہ سکتا ہوں کہ قرض اتار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے جو وعدے کیے ہیں سب پورے کریں گے، اپنی زبان سے کبھی نہیں پھرے، عوام صبر کریں، لحاظ کریں، پاکستان کو بنائیں گے۔آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جو بھی وعدے کیے انہین پورا کیا، پیپلز پارٹی نے عوام کا حق سنبھالا ہے اور آئندہ بھی حق ادا کرتی رہے گی۔آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان غریب ملک نہیں صرف اسلام آباد غریب ہے، مسئلہ کسی شہر سے نہیں بلکہ اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کی سوچ سے ہے کیونکہ ان کو نظرنہیں آتا غریب پر کیا گزرتی ہے۔سابق صدر نے کہا کہ غریب پر جو گزرتی ہے یہ سب صرف سیاستدانوں کو نظر آتاہے، غریب عوام سیاستدان کو پکڑتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لیے کیا کیا ہے؟انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ترقی ہم دیں گے کیونکہ ملک کو بنانا ہماری مجبوری بھی ہے، پاکستان کو بنائیں گے تو آنے والی نسلیں ہمیں یاد رکھیں گی، بہت لوگ آئے اور چلے گئے لیکن بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کا نام آج بھی زندہ ہے، یہ کمال کے لوگ تھے جنہوں نے شہادتیں قبول کیں۔ان کا کہنا تھا کہ شہادت ان کو نصیب ہوتی ہے جس نے انسان ذات کی خدمت کی ہو، ہمت باندھ کر رکھیں لیڈرشپ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں لوگوں کو ان کے حقوق ملیں اور ملک کو ترقی دے سکیں۔آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی بہت سی سوچیں ہیں جو منشور میں بھی شامل ہیں، ہم چاہتے ہیں بلوچستان کو سیراب کریں اور گلگت کو چائنہ گیٹ بنائیں، بہت منصوبے ہیں جو منشور میں شامل ہیں جن پر کام بھی کریں گے۔