سینئر پارٹی رہنماؤں میں اختلاف:نواز شریف کو پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں مشکلات کا سامنا

لاہور(آن لائن)مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے درمیان اس معاملے پر اختلاف رائے کھل کرسامنے آگیا ہے،نواز شریف نے قومی اسمبلی کے ہر حلقہ سے 2 امید وار اور صوبائی اسمبلی سے 3 امید وار شارٹ لسٹ کئے ہیں،ن لیگ کے بعض سینئر رہنما50 فیصد ٹکٹ نئے اراکین کو دینا چاہتے ہیں جبکہ بعض رہنما پرانے ساتھیوں کو نظر انداز کرنے کے خلاف ہیں،کئی اراکین نے پی ٹی آئی کو چھوڑ کر ن لیگ میں آنے والوں کو فوری ٹکٹ دینے کی بھی مخالفت کر دی۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن)کے اندرونی اختلافات کے باعث پارٹی قائد نواز شریف کوامید واروں کے ٹکٹ کیلئے فیصلہ کرنے میں مشکلات درپیش ہیں،قائد ن لیگ کی وارننگ کے باوجود انٹرویوز کیلئے آنے والے امیدواروں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی جاری ہے،نوازشریف نے ٹکٹ جاری کرنے سے قبل امیدوار شارٹ لسٹ کرلیے،ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ کیلئے دو اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقہ کیلئے تین تین امیدوار شارٹ لسٹ کیے گئے ہیں،قائد ن لیگ کے شارٹ لسٹ ناموں پر پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے بعض پر تحفظات کا اظہار کیا ہے،اسحاق ڈار،حمزہ شہباز،سعد رفیق،رانا ثناء اللہ پرانے ساتھیوں کو بھی ساتھ لینے پر اصرار کر رہے ہیں جبکہ خواجہ آصف،احسن اقبال،ایاز صادق اور مریم نواز پچاس فیصد ٹکٹ نئے لوگوں اور پچاس فیصد پرانے کو دینے کی حامی ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمانی بورڈ کے اجلاسوں میں روزانہ کی بنیاد پر اختلاف رائے سامنے آ نا شروع ہوگئے ہیں،نوازشریف اختلاف رکھنے والوں کے تحفظات خود نوٹ کررہے ہیں،پارلیمانی بورڈ نے حتمی فیصلہ نوازشریف پر چھوڑا ہے مگرسینئر رہنماؤں کے اختلاف کی وجہ سے انھیں فیصلہ لینے میں مشکلات ہیں،ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سینئررہنماؤں کو پی ٹی آئی کے بعض سابق امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے فیصلے پر بھی شدید تحفظات ہیں،جن حلقوں سے آپ ان کو ٹکٹ دیں گے ن لیگ کا ووٹر ان کو ووٹ نہیں دے گا جس کی وجہ سے اس حلے میں ن لیگ کو شکست ہوگی،دوسری جانب پارٹی ترجمان مریم اورنگزیب نے پارٹی کے اندر کسی بھی قسم کے اختلافات کی تردید کر دی۔