امیدواروں کے چناؤ میں انٹرویوز آخری مراحل میں ہیں، احسن اقبال

لاہور (آن لائن) مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ امیدواروں کے چناؤ میں انٹرویوز آخری مراحل میں ہے، ایکسپرٹس، اوورسیزپاکستانیوں کے لئے موقع ہے کہ ن لیگ کے منشور کو حتمی شکل دینے میں اپنا کردار ادا کرے، ہم نے ن لیگ کے منشور کو حتمی شکل دینے کے لئے پورٹل لانچ کیا ہے جو بھی تجاویز دینا چاہتا ہے اس کے لئے یہ موقع ہے، آئین کی حکمرانی کو ہم کیسے آگے لاسکتے ہیں، کس طرح ہم لوگوں کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرسکے، پوری قوم کو شریک کرنے کے لئے دعوت دے رہے ہیں کہ آئے، معیشت کے اوپر، غربت کے خاتمے،توانائی کا شعبہ،مزدور کسان کے لئے ہم کیسے کام کرسکتے ہیں، اوور سیز پاکستانیوں کے لئے بہتر کام کرسکتے ہیں، کرپشن کا خاتمہ ہو اور شفافیت کو فروغ دیا جاسکے، تعلیم کے نظام کو ہم کیسے بہتر کرسکتے ہیں، قوم سے بھی ہم کہے گے کہ وہ ہماری رہنمائی کرے، ہم چاہتے ہیں ماہرین بھی ہمیں تجاویز دے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپورٹس میں پاکستان پیچھے چلا گیا ہے ہم کسی وکٹری اسٹینڈ پر نظر نہیں آتے، پاکستان میں خواتین ورک فورس کافی ہے ہمیں اپنی خواتین کو تعلیم دینی ہے، انسانی حقوق اور اقلیتوں کو ہم کیسے تحفظ دے سکتے ہیں، پچھلے سال ایک بڑا سیلاب آیا پاکستان کو کیسے ہم نے مضبوط معیشت بنانا ہے، ٹورازم کو ہم کس طرح فروغ دے سکتے ہیں، اپنے آبی وسائل کو ہم کس سیف کرسکتے ہیں، دینی اقدار اور تشخیص کی ہم کیسے حفاظت کرے، میڈیا کی اصلاحات، میڈیا کی آزادی، پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہو، پارلیمینٹ کے کردار کو کیسے موثر بنایا جاسکتا ہے، ہمیں اپنے انتظامی ڈھانچے کو بہتر کرناہے، سرخ فیتے کو ختم کیا جائے چاہتے ہیں بزنس مین ہماری رہنمائی کرے، لوکل باڈیزایک مضبوط نظامی حکومت ہی چیزوں کو بہتر کرسکتا ہے، پاکستان ایک وفاق ہے کس طریقے سے ایک مضبوط فیڈریشن کو مضبوط بنا سکتے ہیں، سی پیک ایک بہت اہم منصوبہ ہے جو پاکستان کی قسمت بدل سکتا ہے، گذشتہ حکومت نے سی پیک کو تباہ کیا۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں اس منصوبے کو کامیاب بنائے اور اکنامک زون بنائے، پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، ہمارا زیادہ فوکس اس بات پر ہوگا کہ اپنی ایکسپورٹ کو بڑھائے اور امپورٹ کو کم کرے، اگلے تین سالوں میں ہمیں بہتر ارب ڈالر کے قرضے دینے ہیں، ہم دوسروں سے مانگ کر قرضے ادا نہیں کرنا چاہتے، ہم چاہتے ہیں ن لیگ کا منشور قومی شراکت کے ساتھ بنائے، اس پورٹل کے ذریعے وہ اپنی تجاویز شیئر کرسکتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ چوبیس کروڑ عوام کے ساتھ مل کر منشور بنائے، اگر ن لیگ، پی پی پی اور پی ٹی آئی کا مقابلہ کرے تو نظر آئے گا کہ سب سے اچھا ادوار ن لیگ کا تھا، دوہزار اٹھارہ کے انتخابات کے ڈرانے خواب نے ان لوگوں کی بھی آنکھیں کھول دی ہیں جنھوں نے ان کو ووٹ دیا تھا۔