پرامن احتجاج کی ہر ایک کو اجازت ہے، بلوچستان سے آئے مظاہرین کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، مرتضیٰ سولنگی

اسلام آباد (آن لائن)نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہپرامن احتجاج کی ہر ایک کو اجازت ہے،ہم بلوچستان سے آئے مظاہرین کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، کوشش ہے کہ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلہ کے حل کی طرف جائیں، ہماری خواہش ہے مظاہرین عزت، وقار اور سلامتی کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جائیں اور بقیہ مذاکرات اسلام آباد کی بجائے بلوچستان یا کوئٹہ میں ہوں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا بلوچستان سے آئے مظاہرین میں اکثریت خواتین کی ہے، اس وقت مظاہرین پریس کلب کے سامنے موجود ہیں۔مظاہرین کیلئے سیکورٹی، ایمبولینس اور طبی سہولت کا انتظام موجود ہے۔مظاہرین کی ترجیح ہے کہ وہ وہاں بیٹھ کر پرامن احتجاج کریں گے۔پرامن احتجاج کی ہر ایک کو اجازت ہے۔ہماری کوشش ہے کہ مظاہرین کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے، مرتضیٰ سولنگی نے کہا گزشتہ روز بھی مذاکراتی کمیٹی کے مظاہرین سے مذاکرات ہوئے۔مظاہرین کے مطالبات کئی دہائیوں پرانے ہیں۔جب مظاہرین اسلام آباد پہنچے تو کچھ لوگ پہلے سے پریس کلب میں موجود تھے۔جو مظاہرین بلوچستان سے آئے انہوں نے 26 نمبر چونگی کے قریب سڑک بلاک کی۔مظاہرین کو ایف نائن پارک اور ایچ نائن کے گراؤنڈ میں احتجاج کے لئے جگہ دینے کی پیشکش کی گئی، انہوں نے وہاں جانے سے انکار کر دیا۔رات گئے ان مظاہرین میں کچھ مقامی افراد شامل ہوئے۔اسلام آباد میں موجود مظاہرین نے ریڈ زون کی طرف جانا شروع کیا تو پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔کچھ مظاہرین کو پتھراؤ کرنے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا۔گرفتار خواتین کو دو دن پہلے ہی رہا کردیا گیا تھا۔163 گرفتار مرد حضرات کی رہائی کا عمل جاری ہے، مرتضیٰ سولنگی نے کہا مظاہرین جب بلوچستان سے چلے تو انہیں کسی جگہ نہیں روکا گیا۔مظاہرین کے ساتھ کسی قسم کا ناروا سلوک نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا ہم مظاہرین کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ مظاہرین عزت، وقار اور سلامتی کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جائیں۔ہم چاہتے ہیں کہ بقیہ مذاکرات اسلام آباد کی بجائے بلوچستان یا کوئٹہ میں ہوں۔ہم بلوچستان جا کر ان کے ساتھ بات کریں گے۔ہماری کوشش ہے کہ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلہ کے حل کی طرف جائیں۔