اسلام آباد(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف نے انتخابی نشان بلے کی واپسی کے لیے آئینی درخواست کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی تیار کرلی ہے جوآج (پیر)کواسلام آبادہائی کورٹ میں دائر کیے جانے کاامکان ہے۔جس میں درذخواست کی جلدسماعت کی بھی استدعاکی جارہی ہے۔درخواست چیئرمین بیرسٹرگوہرکی ہدایت پر تیار کی گئی ہے وہ خود بھی عدالت عالیہ میں پیش ہوں گے اور عدالت سے بلے کے نشان کی واپسی بارے استدعاکریں گے۔ذرائع کاکہناہے کہ پی ٹی آئی نے اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ سے رجوع کے لیے بھی آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت بھی درخواست تیار کی ہے جس کی پیروی سردار لطیف خان کھوسہ ایڈووکیٹ کریں گے۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ بلے کا نشان واپس لینے کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے اور امید ہے سپریم کورٹ مداخلت کرے گی ہمارا نشان بحال ہوگا۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا تھاکہ سائفرکیس کو اوپن ٹرائل نہیں سمجھتا، یہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے، ہر انسان کے بنیادی حقوق ہیں، عدالتوں کو اسے قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے، سائفر کیس میں کوشش کی جارہی ہے کوئی باہر نہ جاسکے، ہمیں ابھی کوئی سرٹیفائیڈ کاپیز بھی فراہم نہیں کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ بڑی عجلت میں ساری چیزیں ہورہی ہیں، سپریم کورٹ نے واضح کہا سب کچھ کریں،کرمنل ٹرائل عجلت میں نہیں کیاجاسکتا، سوائے ہمارے کسی کا بھی کرمنل ٹرائل عجلت میں نہیں ہورہا۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بلے کا نشان واپس لینے کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے، امید ہے عدالت انصاف کرے گی، ان شاء اللہ سپریم کورٹ مداخلت کرے گی ہمارا نشان بحال ہوگا، بلا پاکستان کے 70 فیصد عوام کی نشانی ہے، کوئی بھی نشان الاٹ ہو وہ آپ سیکوئی نہیں چھین سکتا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے رجوع کا آپشن بھی موجود ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے آرڈر میں کوئی ذکر نہیں کیا کہ جنہوں نے درخواستیں جمع کرائیں کیا وہ پی ٹی آئی کا حصہ تھے یا نہیں، الیکشن کمیشن نے ذکر ہی نہیں کیا ہم نیکسی قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی کی ہے، ہمارے انٹرا پارٹی الیکشن پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا، الیکشن کمیشن نے جو کل آرڈر پاس کیا ہے وہ اس کے پہلے آرڈر سے متصادم ہے۔
Load/Hide Comments



