ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو اپنی ثقافت کو اجاگر، علاقائی زبانوں کو فروغ دینا ہوگا ، بلاول بھٹو زرداری

حیدر آباد (آن لائن) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو اپنی ثقافت کو اجاگر کرنا ہوگا،ہمیں علاقائی زبانوں کو فروغ دینا ہوگا ،ہم نے پاکستان کو جدید ملک بنانا ہے، خطرات کا مل کر مقابلہ کرنا ہے،ہماری سے بڑی بدقسمتی ہے کہ بڑے بڑے لیڈروں کو قتل کردیا گیا،ہم نے اپنی ثقافت اور تاریخ کو اپنے ہاتھوں سے دبایا ہے،چاہتا ہوں کہ پاکستان کو ایک نئی سمت میں لے کر جاؤں،ہم نے نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق اور گولی کی بجائے قلم اور کتاب دینا ہے، اپنی ثقافت اور تاریخ کو اپناتے ہوئے شرمندہ نہ ہوں،ملک کے دانشور، شاعر اور نوجوان جاگ جائیں تو پھر ان کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا،انہی کو سپورٹ کرکے ہم انتہا پسندی کا مقابلہ کرسکتے ہیں، آج نفرت اور تقسیم کی سیاست عروج پر ہے ہمیں اس کو ختم کرکے ملک کو ترقی کی راہ پرڈالنا ہوگا، کفر کے فتوے لگانا بند کرنا ہوگا، موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان میں بہت تباہی ہوئی ہے ہمیں اس بارے آگاہی فراہم کرنا ہوگی۔ حیدر آباد میں نویں ایاز میلہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے اپنی تاریخ، ثقافت اور زبان کو دبا کر بہت ظلم کیا ہے، اگر ہم نے دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ہمیں اپنی تاریخ و ثقافت کو اپنانا پڑے گا، دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو اپنی ثقافت کو اجاگر کرنا ہوگا، ہمارے ملک میں بہت ظلم ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے ہاتھ میں بندوق دینے کے بجائے قلم دینا ہوگا،اگر ملک میں شاعر، رائٹر اور آرٹسٹ نہیں ہوں گے تو ایسی ہی سیاست ہوگی جو آج کل ہو رہی ہے، چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ایک نئی سمت میں لے کر جائیں، اپنی ثقافت اور تاریخ کو اپناتے ہوئے شرمندہ نہ ہوں۔ بلاول بھٹوکا کہنا تھا کہ میں اس ملک کا نوجوان وزیرخارجہ رہا ہوں اور پوری دنیا دیکھی ہے، نفرت اور تقسیم کی سیاست سے ملک کیسے چل سکتا ہے؟ کوئی ایسا ملک نہیں جو اپنی تاریخ اور ماضی کو نظرانداز کرے، اس ملک کے مستقبل کے لیے ایک خواب اور ویژن ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ کوئی ملک ایسا نہیں دیکھا جس نے اپنی تاریخ اور ماضی کو نظرانداز کیاہو، اپنے کلچر کو فروغ دینا بہت ضروری ہے، کچھ لوگ ملک سے نفرت اور تقسیم کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ہماری بدقسمتی ہے کہ بڑے بڑے لیڈر قتل کردیے گئے، ہم نے پاکستان کو جدید ملک بنانا ہے، ملک سے نفرت کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا، ہمیں مل کر تمام خطرات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں انتہا پسندی کی سوچ کو ایک حد تک روکا گیا ہے، اگر ہر سیاسی جماعت ایک دوسرے کو غدار کہے گی تو اس ملک کو کیسے چلائیں گے؟ جیت تقسیم میں نہیں اتحاد میں ہے، ملکی سیاست میں نفرت اور تقسیم عروج پر ہے، ہمیں پاکستان میں انتہاپسندی کے بخارکو توڑنا ہوگا،ہر شخص کو حق ہے کہ وہ اختلاف رائے رکھے مگر یہ مطلب نہیں کہ ذاتی دشمنی پر اتر آئے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پیپلزپارٹی میں وہ صلاحیت ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے، دہشت گردی کے مسائل ہوں یا عالمی خطرات کامل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں انتہا پسندی کی سوچ کو ایک حد تک روکا گیا ہے، اگر ہر سیاسی جماعت ایک دوسرے کو غدار کہے گی تو اس ملک کو کیسے چلائیں گے؟ جیت تقسیم میں نہیں اتحاد میں ہے،ب ملکی سیاست میں نفرت اور تقسیم عروج پر ہے، ہمیں پاکستان میں انتہاپسندی کے بخارکو توڑنا ہوگا،ہر شخص کو حق ہے کہ وہ اختلاف رائے رکھے مگر یہ مطلب نہیں کہ ذاتی دشمنی پر اتر آئے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی میں وہ صلاحیت ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے، دہشت گردی کے مسائل ہوں یا عالمی خطرات،مل کر مقابلہ کرنا ہوگا،کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ معاشرے تقسیم رہے اور یہ ایک دوسرے سے الگ رہیں، جب نوجوان جان جائیں گے کہ اتحاد میں ہماری جیت ہے تو باقی تمام قوتیں ہار جائیں گی۔دہشت گردی کے مسائل ہوں یا عالمی خطرات، مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ہمیں پہلے اپنی اور پھر دنیا کے عوام کو سمجھانا ہے ہمیں اس بارے آگاہی فراہم کرنی ہے موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے ہمارے لیے یہ قیامت سے پہلے قیامت تھی ہمیں اس بارے کام کرنا ہوگا او ر مل کر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔