پاکستان نے 35 کروڑ ڈالرز قرضے کے لیے ورلڈ بینک کی شرائط تسلیم کرلیں

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان نے 35کروڑ ڈالرز قرضے کے لیے مصنوعات اور خدمات جنرل سیلز ٹیکس میں ہم آہنگی اور پراپرٹی پر ویلیو ایشن ریٹ بڑھانیکیلئے ورلڈ بینک کی شرائط تسلیم کرلی ہیں۔ پراپر ٹی پر تخمینی لاگت کا تناسب مارکیٹ قیمت کا 85فیصد رکھنے کے لیے صوبائی ریونیو بورڈ نے ایف بی آر کے مالی قدر کے جدول کو ضلعی جدول کے طور پر ملک کے21اضلاع میں اختیار کرلیے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے15ہزار روپے یا اس سے زائد مالیت کے پرائز بانڈز کو رجسٹرڈ دستاویز میں تبدیل کرنے کیلیے ورلڈ بینک سے اتفاق کرلیا ہے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایشین انفرا اسٹر کچر انو سٹمنٹ بینک نے مالی شراکت کے طور پر25کروڑ ڈالرز کی منظوری دی ہے، اس طرح ملنے والے قرضوں کا مجموعی حجم 60کروڑ ڈالرز ہوجاتا ہے۔ نازک اسٹر کچرل مشکلات کی وجہ سے غربت میں کمی لانے کی رفتار سست پڑ گئی ہے اس کے علاوہ گاہے بکاہے۔ درپیش اقتصادی بحران بھی ایک وجہ ہے۔ رواں رخصت ہونے والے سال میں نچلے متوسط طبقے میں غربت کی شرح 39.4فیصد رہی 2018ء کے مقابلے میں مزید 30لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔ شہری اور دیہی علاقوں میں غربت کے فرق کو باٹنے کیلیے کوششیں زیادہ بار آور نہیں ہو سکیں۔ جبکہ خدمات اور مواقع میں خواتین اور لڑ کیوں کو بڑے پیمانے پر محرومیوں کا سامنا ہے۔ رواں سال گردشی قرضوں سے نمٹنے کیلیے 335ارب روپے جاری کئے ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق آئندہ فروری میں مجوزہ عام انتخابات کے باعث سیا سی و حکومتی بے یقینی سے آپر یشنل خطرات کہیں زیادہ ہیں۔ اس سے وابستہ سیا سی دباو مالی دباوکے علاوہ اصلاحات پر عمل درآمد میں مشکلات درپیش ہوں گی۔ درآمدات کے لیے محض ڈیڑھ ماہ کی ادائیگیاں رہ گئی ہیں۔ اضافی بیرونی امداد کی ضرورت ہے بینکنگ شعبے سے حکومت کے بھاری قرضے اوراہم درآمدات میں رکاوٹ بھی پیچیدگی اور مشکلات کا باعث ہیں۔ ان میں خصوصاَ تجارتی ٹیرف اصلاحات، پراپرٹی ٹیکیشن میں اضافہ اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات شامل ہیں۔