عمر گل کا فاسٹ بولر کی کارکردگی پر اظہار اطمینان

پرتھ (آن لائن)پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ عمر گل نے کہا ہے کہ وائٹ بال سے ریڈ بال میں آکر بولنگ کرنا آسان نہیں ہوتا، اپنے فاسٹ بولرز کی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔پرتھ میں پریس کانفرنس کے دوران عمر گل نے کہا کہ 4 فاسٹ بولرز کو کھلانے کا فیصلہ درست ثابت ہوا، دونوں نوجوان فاسٹ بولرز نے فائٹ بیک کرکے اچھی بولنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے کیریئر کے پہلے ٹیسٹ میں بولنگ کرنا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر آسٹریلیا کے خلاف اْس کے ہوم گرا ؤنڈ میں تو بولنگ اور مشکل ہوجاتی ہے۔بولنگ کوچ نے مزید کہا کہ فاسٹ بولرز کی کارکردگی سے مطمئن ہوں، عامر جمال اور خرم شہزاد فرسٹ کلاس سیزن میں بولنگ کرتے آرہے ہیں۔اْن کا کہنا تھا کہ شاہین شاہ آفریدی ہمارے مین بولر ہیں، وہ لمبے عرصے سے ٹیسٹ نہیں کھیلے ردھمکہ پاکستان کا موجودہ بولنگ اٹیک اس قابل نہیں کہ 5 روز میں دو بار آسٹریلوی ٹیم کو آ ؤ ٹ کر سکے۔پی سی بی کا بولنگ کے حوالے سے شاہین شاہ پر زیادہ اعتماد ہے اور ان کی ماضی کی کارکردگی بھی بہت شاندار رہی ہے لیکن انہیں رواں سال انجری کے بعد ری ہیب کرکے جلد واپس میدان میں لایا گیا جس کے نتیجے میں وہ اپنی سپیڈ اور ردھم کھو بیٹھے ہیں، اب آ پ دیکھیں تو وہ آف سٹمپ سے دور بولنگ کر رہے اور میرا ماننا ہے کہ جس طرح ان کی ماضی کی بولنگ پرفارمنس رہی ہے وہ شائقین کرکٹ آئندہ کبھی نہیں دیکھ سکیں گے۔عبدالر ؤ ف کا مزید کہنا تھا کہ اگر شاہین آفریدی کے بائیو مکینکس درست نہ کیے گئے اور ان پر کام کا زیادہ دبا ؤ ڈالا گیا تو شاید وہ دو ٹیسٹ کے بعد ہی دوبارہ زخمی ہوجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب آپ کسی مضبوط ٹیم کے ساتھ ان کے ہوم گرا ؤنڈ پر کھیل رہے ہوں تو پھر اسپیشلسٹ کے ساتھ میدان میں اترنا پڑتا ہے لیکن افسوس پرتھ ٹیسٹ کے لیے آدھے تیتر اور آدھے بٹیر والی مثال قائم کرکے ایسی ٹیم اتاری گئی ہے جس کا کوئی تال میل نہیں اور وہ آسٹریلیا کو دو بار آؤٹ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔