ن لیگ سے استعفیٰ نہیں دیا اور ٹکٹ کیلئے اپلائی بھی نہیں کیا، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد(آن لائن)سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ن لیگ سے استعفیٰ نہیں دیا اور ٹکٹ کیلئے اپلائی بھی نہیں کیا، ٹکٹ اپلائی نہ کرنا یہی معنی رکھتے ہیں کہ ن لیگ کے ساتھ نہیں۔آج کل جو سیاست ہو رہی ہے اس سے میں مطمئن نہیں ہوں،پاکستان میں ایک سے زائد جماعتیں بنیں گی اور کوئی راستہ نہیں۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ہا سیاسی جماعتوں کی جگہ رہتی ہے، ایک نئی جماعت بھی بنے گی۔ایک نئی جماعت کیلئے اسپیس موجود ہے اور جلد بنے گی۔ موجودہ تینوں بڑی پارٹیوں نے ملک کو کچھ بھی نہیں دیا۔انہوں نے کہا نواز شریف الیکشن لڑیں گے تو ان کو میری ضرورت نہیں ہو گی۔نواز شریف کو میرا موقف واضح تھا اس مرتبہ الیکشن لڑنا ممکن نہیں ہو گا۔نواز شریف جب بلائیں جاؤں گا لیکن اس مرتبہ الیکشن نہیں لڑونگا۔انہوں نے کہا اقتدار کا جو آج راستہ اپنایا گیا ہے اس سے اتفاق نہیں کرتا۔اقتدار کی سیاست ہمیشہ ناکام ہوتی ہے،عوام کیلئے سیاست کرنی چاہئے۔لاڈلے کی باتیں چلتی رہتی ہیں، تنقید کی جاتی رہتی ہے۔لوگوں کو سلیکٹ کر کے اوپر لائیں گے تو سیاست اور ملک کو نقصان ہوتا ہے۔35سال سے ایسی حرکتیں دیکھتا رہا، ایسا کرنے والے بھی نقصان اٹھاتے ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا میں نہیں سمجھتا آئندہ کسی بھی جماعت کو اکثریت ملے گی۔آئندہ انتخابات میں کوئی بھی جماعت اکثریت نہیں لے سکے گی۔ہر جماعت چاہتی ہے کہ اتحاد کے ذریعے ہی ہو حکومت بن جائے۔ن لیگ الیکشن سے پہلے ہی اتحاد بنانے کی کوششیں کر رہی ہے۔پارلیمان میں احتجاج، شور شرابہ ہوتا ہے،اپوزیشن موجود ہوتی ہے۔ 16ماہ اپوزیشن کے بغیر حکومت تھی، راجہ ریاض کیا کامیاب ماڈل تھا؟۔ میرا نہیں خیال کہ راجہ ریاض کامیاب ماڈل تھا۔ 16 ماہ میں حکومتی کاموں میں وہ شدت نہیں تھی جو ہونا چاہئے تھی۔ اسحاق ڈار نے جو ڈیلیور کیا ہے اس کا جواب الیکشن میں مل جائے گا۔مفتاح اسماعیل کی شکل میں ایک تیار وزیرخزانہ ن لیگ کے پاس تھا۔الیکشن متنازع ہو گئے تو حکومت 5سال بھی رہے کچھ نہیں کر سکے گی۔حکومتیں اخلاقی اتھارٹی پر چلتی ہیں، عوام قبول نہ کریں تو کیا کرینگے۔2017میں جو کچھ ہو رہا تھا آج بھی ویسا ہو رہا ہے تو اس سے بچنا چاہئے۔انہوں نے کہا نوازشریف کے کیسز جعلی تھے بہت پہلے ختم ہونے چاہئے تھے۔ میری رائے ہے کہ سربراہ پی ٹی آئی کے وکلاء نے کیس درست نہیں لڑا۔8 فروری کو الیکشن ہونے دیں اس کے بعد کھل کر بات کر لیں گے۔پنجاب میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کا مقابلہ ہوگا، تیسرے نمبر پر آئی پی پی ہو گی۔ تحریک لبیک پاکستان کے ووٹ اتنے ہیں کہ صوبائی نشستیں نکال سکتے ہیں۔انہوں نے کہا پی پی اور پی ٹی آئی کہہ رہی ہے تو پھر الیکشن نہیں ہونگے۔ سیاسی نظام جب تک درست نہیں ہو گا تو معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی۔اب بات چارٹر سے آگے چلی گئی ہے، الیکشن سے پہلے اس کی ضرورت ہے۔ریفارم سے بات آگے چلی گئی، نظام بدلنے ہونگے جس کیلئے سپورٹ چاہئے۔نیت صرف اقتدار کیلئے ہوتی ہے تو پھر وہ لیڈر شپ ناکام ہی رہتی ہے۔تنہا دوڑ کر بھی ن لیگ نہیں جیت سکتی۔