2023ء میں سٹاک ایکسچینج کے کاروبار میں 30 فیصد اضافہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کے تمام ممبرز کی کامیابی ہے،نگران وفاقی وزیر خزانہ شمشاد اختر

کراچی(آن لائن) نگران وفاقی وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہا ہے کہ 2023ء میں سٹاک ایکسچینج کے کاروبار میں 30 فیصد اضافہ ہوا، یہ کامیابی پاکستان سٹاک ایکسچینج کے تمام ممبرز کی ہے۔پاکستان سٹاک ایکسچینج ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شمشاد اختر نے کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے، کراچی آمد پر نگران وزیراعظم کو خوش آمدید کہتے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں اصلاحات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا، تمام کاروبار سے منسلک اداروں کے تعاون کے باعث سٹاک ایکسچینج نے تاریخی کامیابی حاصل کی، ہم اس کامیابی کے تسلسل کو جاری رکھیں گے۔شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ ملکی مفاد میں مشکل فیصلے کیے گئے، ایف بی آر میں اصلاحات کے مثبت نتائج آئے ہیں، ایف بی آر میں پیش کردہ اصلاحات پر فوری عملدرآمد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کاروبار کی بہتری کے لیے درآمدات پر پابندی اٹھائی، سٹاک ایکسچینج میں اسلامک فنانس کی شمولیت کے بہتر نتائج سامنے آئے۔نگران وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس پالیسی پر کام کیا جا رہا ہے، حکومت نے مقامی طور پر مہنگے قرضوں سے جان چھڑائی ہے۔شمشاد اختر نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ معیشت کے استحکام کے لیے بڑی محنت کی، آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کا پہلا اجلاس کامیابی سے مکمل کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پر قرضوں اور سود ادائیگیوں کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے، مقامی سطح کے قرضوں کو ری شیڈول کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں، بیرونی قرضوں کا بوجھ ملکی اکانومی کے 44 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ باہمی معاہدوں کے تحت بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا بوجھ 35 فیصد تک ہے۔