کوئٹہ(آن لائن) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور چینی سفیر نے سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے پلانٹ کا افتتاح کردیا۔ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ مجھے آج بہت زیادہ خوشی ہورہی ہے، بلوچستان کے ساتھ نسبت کو جوڑنے میں دلی مسرت ہوتی ہے، اکتوبر میں بی آر آئی کی کانفرنس میں شرکت کیلئے گیا، چین میں ہمارے دورانیے کو بہت یادگار بنایا گیا۔تقریب سے خطاب میں انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ سی پیک کی برکت سے ہی تمام آسانیاں پیدا ہوئیں، گوادر اور بلوچستان کی ترقی میں ہوسکتا ہے رفتار تیز نہ ہو، گوادر اور بلوچستان کی ترقی آگے کی جانب جارہی ہے اس نے پیچھے نہیں آنا۔ انہوں نے کہا کہ جب چائنہ ترقی کرتا ہے تو پھر سب ترقی کرتے ہیں، ترقی کرنے والوں میں پاکستان سب سے پہلے آتاہے، پاکستان میں بلوچستان سب سے پہلے آتا ہے، گزشتہ کئی سالوں سے پینے کا پانی ایک گھمبیر مسئلہ تھا، ہم چینی دوستوں کے مشکور ہیں، چینی دوستوں نے یہاں 150بیڈز پر مشتمل ہسپتال کا افتتاح بھی کرادیا۔ نگران وزیراعظم نے کہا کہ دو اقوام میں جب قربت پیدا ہوتی ہے تو زبان کا استعمال بھی ہوتا ہے، پاکستان چائنہ کے تعلقات کیلئے ہم مختلف اصطلاحات استعمال کرتے ہیں، اصل روح کو بیان کرنے کا مقصد ہوتا ہے کہ ہم دونوں ممالک کتنے قریب ہیں۔نگران وزیراعظم نے کہا کہ قدرت نے جب زمین کا نقشہ کھینچا تو فیصلہ کیا کہ پاکستان چین ساتھ ساتھ رہیں گے، وہ ازلی فیصلہ ابدی اہمیت اختیار کرگیا ہے، چائنہ کی ماڈرنائزیشن کا سفر انسانی تاریخ میں اہم سفر ہے، صدر شی جن پنگ کی ملک کیلئے خدمات قابل ستائش ہیں۔ وزیراعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ڈی سیلینیشن پلانٹ سے گوادر میں پانی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو جائے گا۔ انہوں نے پاک چائنہ فرینڈ شپ ہسپتال کی تعمیر کے لیے چینی تعاون کو بھی سراہا۔وزیراعظم نے کہا کہ گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی آپریشنل ہونے کے مرحلے میں داخل ہونے والا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ گوادر میں بجلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے شمالی زون کو نیشنل گرڈ سے منسلک کیا جائے۔انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت رابطوں میں بہتری سے بے پناہ فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ گوادر اور بلوچستان کی ترقی کی سمت متعین ہو چکی ہے اور اب آگے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اسے طاقت یا تشدد کے استعمال سے نہیں پلٹا سکتا۔وزیراعظم نے پاکستان میں چینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، مسلح افواج اور سول قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی کو چینی شہریوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حساس نوعیت کا معاملہ ہے اور ہم اسے بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔انوار الحق کاکڑ کو یقین تھا کہ پاکستان چین دیرینہ دوستی کے نتیجے میں گوادر صنعتوں اور تجارتی رابطوں کا مرکز بن کر ابھرے گا۔وزیراعظم نے نشاندہی کی کہ پاک چین دوستی کی اصل روح کو بیان کرنے کے لیے مختلف جملے جیسے ہمہ موسمی دوست اور سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرز، لوہے کی پوشیدہ دوستی، ہمالیہ سے بلند دوستی، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی۔اس موقع پر اپنے خطاب میں پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ ہمارا مقصد سی پیک سے متعلقہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک باہمی تعاون کے ذریعے اپنے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔
Load/Hide Comments



