حکومت ملک میں ایچ آئی وی کی روک تھام کیلئے پختہ عزم رکھتی ہے، انوار الحق کاکڑ

اسلام آباد(آن لائن)نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں ایچ آئی وی کی روک تھام کیلئے پختہ عزم رکھتی ہے اور اس مقصدکیلئے سیاسی و مالی دونوں پہلوؤں کو ترجیح د ی جارہی ہے ہم مل کر ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں صحت کی دیکھ بھال ہر ایک کا حق ہو، اور کوئی بھی پیچھے نہ رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ایڈز کا عالمی دن “کمیونٹیز کو آگے بڑھنے دیں ” کے عنوان کے تحت منایا گیا۔نگران وزیر اعظم نے کہا میں ملک میں ایچ آئی وی کے ردعمل کو مزید مضبوط کرنے کے لیے حکومت پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔ایچ آئی وی/ایڈز نہ صرف صحت کا مسئلہ ہے بلکہ اس کے سنگین سماجی و اقتصادی اثرات ہیں۔ افسوس کہ جب ہم پاکستان میں ایچ آئی وی وباء کی کی موجو دہ صورتحال پر غور کرتے ہیں تو ہمیں ایک پریشان کن تصویر نظر آتی ہے – ایچ آئی وی کی جانچ اور علاج کی کوریج میں وسیع خلا ء پایا جاتا ہے۔اس موقع پر ہمیں ایک منٹ کیلئے یہ غور کر نا ہوگا کہ کیا ہم ان لوگوں تک پہنچ رہے ہیں جن تک پہنچنے کی ضرورت ہے، کیا ہم ان لوگوں کی جانچ کر رہے ہیں جن کو جانچنے کی ضرورت ہے اور کیا ہم حکمت عملی کے ساتھ صحیح سمت کی طرف دیکھ رہے ہیں؟۔برسوں کی اجتماعی کوششیں، وسائل اور پروگرامنگ وبا کی رفتار کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔انہوں نے کہا مؤثر پروگرامنگ کے لیے اہم رکاوٹیں اور چیلنجز بدستور برقرار ہیں۔ یہ حقیقت ہمیں اختراعی، مؤثر اور پائیدار پروگرامنگ کے ساتھ ایچ آئی وی وباء سے نمٹنے کے لیے اپنے عزم کو مزید مضبوط کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔انہوں نے کہا حکومت اپنی زیادہ ذمہ داری کی ضرورت سے بخوبی واقف ہے اور اس کی تمام تر کاوشیں ایچ آئی وی کی روک تھام کے سیاسی اور مالی دونوں پہلوؤں کو ترجیح دینے کے لیے وقف ہے۔ ہمارے بنیادی مقاصد میں ہمیں خدمات کی فراہمی کے نظام میں موجود خلا کو دور کرنا ہے، خاص طور پر اس شعبے میں اپنی کوششوں کو دوگنا کر تے ہوئے ماں سے بچے میں ایچ آئی وی کی منتقلی کو روکنا ہے ، ہمارا مقصد ایک ایسا معاشرہ بنانا ہے جہاں ہر بچہ ایچ آئی وی سے آزاد پیدا ہو۔ جیسا کہ ہم روک تھام کے نئے اقدامات کو اپناتے ہیں، ہم تیزی سے اور وسیع پیمانے پر اسکے نفاذ کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ خدمات ہماری قوم کو کونے کونے تک پہنچیں اور صحت کی دیکھ بھال تک رسائی میں رکاوٹ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جائے، خاص طور پر معاشرے کے وہ طبقات جو ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے خطرے میں ہیں۔نگران وزیر اعظم نے کہا میں ایچ آئی وی کی روک تھام میں مصروف اپنے تمام شراکت داروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہماری آنے والی نسلوں کی فلاح و بہبود کے لیے بروقت کارروائی کرنے کے لیے وزارت برائے قومی صحت کی خدمات، ضوابط اور کوآرڈینیشن کے ساتھ مل کر کام کریں۔ ہم متحد ہوں اور تعاون کریں، کمیونٹیز کو اس اہم قومی کوشش میں راہنمائی کرنے کی اجازت دیں۔ ایڈز سے پاک پاکستان کے اپنے مشترکہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو ہم آہنگ کریں۔ مل کر ہم ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں صحت کی دیکھ بھال ہر ایک کا حق ہو، اور کوئی بھی پیچھے نہ رہے۔