اسلام آباد (آن لائن) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو خصوصی عدالت میں سائفر کیس کی سماعت کے لیے کل(منگل) کو جوڈیشل کمپلیکس لایا جائے گا، اْن کے لیے سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دینے کے لیے پولیس، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکمے آج (پیر) کو اجلاس کریں گے۔ اس سے قبل خصوصی عدالت (آفیشل سیکرٹ ایکٹ) نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو 28 نومبر کے لیے طلبی کے سمن جاری کیے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی پیشی کے دوران امن و امان کی صورتحال کنٹرول میں رہنے کی توقع ہے کیونکہ پی ٹی آئی کی زیادہ تر قیادت گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہوچکی ہے یا پارٹی چھوڑکر چلی گئی ہے۔تاہم پولیس کی اسپیشل برانچ اور متعلقہ دیگر محکموں نے خفیہ اطلاعات جمع کرنا شروع کر دی ہیں جو ان کی حفاظتی منصوبہ بندی میں مدد کریں گی۔ عمران خان کو جوڈیشل کمپلیکس تک لانے کے لیے 3 راستے ہیں، ایک پشاور روڈ، دوسرا اسلام آباد ایکسپریس وے اور تیسرا راستہ مری روڈ ہے۔ذرائع نے بتایا کہ عمران خان کو جیل سے جوڈیشل کمپلیکس تک لے جانے کے لیے ترجیحی انتخاب پشاور روڈ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ منگل کو ریڈ زون کو جزوی طور پر سیل کرنے کا امکان ہے، علاوہ ازیں ریڈ زون اور اس کے اطراف میں اہم تنصیبات ذرائع نے بتایا کہ جوڈیشل کمپلیکس کو پولیس اور نیم فوجی دستے گھیرے میں لے لیں گے، علاوہ ازیں جوڈیشل کمپلیکس کی طرف جانے والے پوائنٹس اور سڑکوں کو سیل کیے جانے کا امکان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دارالحکومت کے اہم مقامات مثلاً فیض آباد، زیرو پوائنٹ، سری نگر ہائی وے اور ریڈ زون کے قریب دستے بھی تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔
Load/Hide Comments



