سیالکوٹ(آن لائن) مسلم لیگ ن کے قائد و سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ بار بار غلطیاں کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے،بلاوجہ 5کے ٹولے نے ہماری حکومت ختم کردی، کیا ضرورت تھی ایک منتخب وزیراعظم کو سازش کے ذریعے ہٹانے کی، کیوں آر ٹی ایس کو بٹھایا گیا،الیکشن میں کیوں ہمارے خلاف ہیرا پھیری کی گئی؟ نوازشریف کے مقابلے میں ایسے شخص کو لایا گیا جسے سوائے گالم گلوچ کے کچھ نہیں آتا،ملک کو ایسے لوگوں کے حوالے نہیں کرسکتے جو ہمارے کلچر کو خراب کردے،ہم نے خود اپنے ملک کو پٹری سے اکھاڑا پھینکا ہے بلکہ ہم نے پٹری ہی اکھاڑ دی تو ملک کیسے چلے گا؟ سیالکوٹ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ خواجہ آصف کے گھر سے خوبصورت یادیں وابستہ ہیں اللہ تعالیٰ ان کے والد کو غریق رحمت کرے،خواجہ آصف کے والد سے میر امضبوط اور بہت عمدہ تعلق رہا،خواجہ آصف سے بھی میرا تعلق کالج کے زمانے سے ہے،میں نے بہت مشکل وقت دیکھا، حکومت میں بھی رہے اپوزیشن میں بھی رہے،لیکن ہمت نہیں ہاری،اقتدار سے زیادہ مدت، جیل، ملک بدری اور صعوبتوں میں گزاری، ہمیں بلاوجہ سزائیں سنائی گئیں لیکن پھر بھی اپنی قوم کے ساتھ تعلق نبھار ہا ہوں،ہماری حکومت کو بلاوجہ ختم کردیا گیا ہماری معیشت ہمسایہ ممالک سے بہت آگے تھے،اگر ترقی کا سفر جاری رہتا تو آ ج دنیا کی مضبوط معاشی طاقتوں میں ہمارا شمار ہو تا، ہمارے دور میں لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی کا خاتمہ ہو چکا تھا، سی پیک پر کام تیزی سے جاری تھا اور ملک ترقی کر رہا تھا مگر اس وقت ہمارے خلاف سازش کرکے حکومت ختم کی گئی،ہمارے پاس اب غلطی کا موقع نہیں ہے، اگر اب بھی سبق نہیں سیکھا تو بقول علامہ اقبال ہماری داستان نہ ہو گی داستانوں میں،جہاں آئے روز منتخب وزیراعظم کو بلاوجہ اقتدار سے باہر پھینک دیا جائے وہاں ترقی کیسے ہوگی؟جس ملک میں آئے دن وزیر اعظم بدلتے ہوں، جیلوں میں جاتے ہوں، ملک بدری ہوتی ہو، جھوٹے مقدمات بنتے ہوں، جھوٹی سزائیں ملتی ہوں تو وہ ملک کیسے چل سکتا ہے؟ان کا کہنا تھا کہ اگرآپ میری وزارت عظمی کے سال گنیں اور اس کے مقابلے میں میری جیلوں، ملک بدری کے سال گنیں، تو شاید میری ملک بدری اور جیل کی مدت زیادہ لمبی ہو، مگر میں نے ہمت نہیں ہاری، آج تک مسلسل میرے خلاف اور میری پارٹی کے خلاف سزاؤں کا جو سلسلہ چلتا رہا ہے وہ کچھ ہی دن پہلے ختم ہوا اور یہ سب بلا وجہ ہوا، مجھے اس کی کوئی وجہ نہیں سمجھ آتی،ہمارے خلاف سازشیں کرنے کی کیا ضرورت تھی ایک ہنستے بستے ملک کو اجاڑ کر کے رکھ دیا گیا، ہم نے خود اپنے ملک کو پٹری سے اکھاڑا پھینکا ہے بلکہ ہم نے پٹری ہی اکھاڑ دی تو ملک کیسے چلے گا؟ نواز شریف کی جگہ کس بندے کو لائے جو ہروقت گالم گلوچ کرتا رہتا ہے، اب ہمارے پاس غلطی کرنے کی گنجائشں نہیں ہے،الییکشن میں آر ٹی آیس کیوں بٹھایا گیا، ہمارے خلاف الیکشن میں کیوں ہیرا پھیری کی گئی، ماضی میں جو ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہم نے برداشت کیا لیکن اب ایسے نہیں ہونے دینگے گزشتہ 70سالوں میں جواس ملک کے ساتھ کھلواڑ ہوا ہے اللہ نہ کرے کسی ملک کے ساتھ ایسا ہو،ہم خود اس کے ذمہ دار ہیں،ہم اس طرح کے لوگوں کو قطعی طور پر نہیں لانا چاہتے،ایسے شخص کو لانے والے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنا وہ خود۔ انہوں نے کہا کہ وہ شخص آیا نہیں تھا اسے لایا گیا تھا، ججز کو کیا ضرورت تھی ایک ایسے شخص کے ساتھ ملکر منتخب حکومت پر کلہاڑا چلانے کی، کیا ضرورت تھی ہمارے خلاف فیصلہ دینے کی، کروڑوں لوگوں کے منتخب نمائندے کو 5 کے ٹولے نے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا، بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ملک کو ایسے لوگوں کے حوالے نہیں کرسکتے جو ہمارے کلچر کو خراب کردے۔ہم انشاء اللہ از سر نو ملک ی تعمیر کریں گے اگر اب کوئی ایسی غلطی کرے گا تو ہم ملکر اس کو پکڑیں گے، جو بھاری نقصان ہو گیا لیکن اب اس ملک کی دوبارہ تعمیر کرنا ہمارا فرض ہے افسوس ہوتا ہے کیا بننا تھا اور کیا بن گیا کیا 1947میں پاکستان اس لیئے بنایا گیا تھا؟
Load/Hide Comments



