بابا گورونانک کے جنم دن کی تقریبات کا آغاز، تقریباً 3ہزار بھارتی سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے

لاہور (آن لائن) سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک کے 554 ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز ننکانہ صاحب میں ہوگیا جو کل (پیر) 27 نومبر تک جاری رہیں گی، مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے ہر سال کی طرح پڑوسی ملک بھارت سے سکھ یاتری براستہ واہگہ بارڈر لاہور پہنچ گئے جبکہ برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتریوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔سکھ یاتری ڈیرہ صاحب، پنجہ صاحب، ننکانہ صاحب اور کرتارپور جائیں گے۔متروکہ وقف املاک بورڈ کے ایڈیشنل سیکریٹری مزارات رانا شاہد نے واہگہ بارڈر پر بھارتی سکھ یاتریوں کا استقبال کیا۔اس دوران پاکستان سکھ گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کے پردھان سردار امیر سنگھ بھی موجود تھے۔سکھ مہمانوں امیگریشن اور کسٹم کلیئرنس کے بعد سپیشل بسوں سے ننکانہ صاحب روانہ کیا گیا۔ اس موقع پر رانا شاہد کا کہنا تھا کہ بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہتے ہیں، لگ بھگ 3 ہزار کے قریب سکھ یاتری بھارت سے آئے ہیں۔دوسری جانب سردار امیر سنگھ نے کہا کہ گورو کے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں جو یہاں سے اچھی یادیں لے کر واپس جائیں گے۔سردار امیر سنگھ نے کہا کہ واہگہ بارڈر پر سکھ یاتریوں کے استقبال کے ساتھ ساتھ ان کے لئے بہترین لنگر کا اہتمام کیا گیا ہے، یاتریوں کے لئے بھارتی کرنسی تبدیل کروانے کی سہولت فراہم کرنے کے علاوہ میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا ہے، سکھ یاتری جہاں جہاں بھی جائیں گے، ان کو ہر مقام پر بہترین سہولیات متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے فراہم کی جائیں گی۔پردھان سردار امیر سنگھ نے کہا کہ شرومنی کمیٹی کو کہوں گا کہ یاتری پوچھتے ہیں کہ ٹرینیں کیوں بند ہیں، ان کو علم ہونا چاہئے کہ ہماری ٹرینیں لینا بھارتی حکومت نے بند کیا ہے، آج بھارتی حکومت ٹرینیں لینے کی اجازت دیدے، حکومت پاکستان فوری طور پر سکھ یاتریوں کو لانے کے لئے ٹرینیں چلا دے گی، گورو کے مہمانوں کو عزت دینا، اچھی سہولیات دینا ہماری ذمہ داری ہے جو ہم پوری کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سکھ یاتریوں کو لانے والی ٹرینیں چلانا حکومتوں کا کام ہے، پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی یا متروکہ وقف املاک بورڈ کا اختیار نہیں ہے، سکھ یاتریوں کو پاکستان میں قیام کے دوران اعلی قسم کی ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی۔شیڈول کے مطابق 27 نومبر کو جنم دن کی مرکزی تقریب اکھنڈ بھوگ صاحب اور نگرگیرتن ہوگا۔28نومبر کو بھارتی مہمان گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال جائیں گے جہاں ایک رات قیام کے بعد 30نومبر کو یاتری گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور حاضری دیں گے۔ دو دسمبر کو یاتری گوردوارہ روڑی صاحب ایمن آباد پر حاضری دیتے ہوئے شام تک گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور پہنچیں گے۔لاہور میں ایک روز قیام کے بعد 4 دسمبر کو بھارتی مہمان واپس لوٹ جائیں گے۔متروکہ وقف املاک بورڈ اور پاکستان سکھ گوردواہ پربندھک کمیٹی کی طرف سے مہمانوں کے سفر،قیام،لنگر،میڈیکل اور سیکیورٹی کا فول پروف انتظام کیا گیا۔