لاپتہ افراد سے متعلق اختر مینگل کی لسٹ درست نہیں، سرفراز بگٹی

اسلام آباد/کوئٹہ (آن لائن)نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد سے متعلق اختر مینگل کی لسٹ درست نہیں،لاپتہ افراد کے معاملے پر عدالت کا نگران وزیر اعظم کو بلانا مناسب عمل نہیں،ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں لاپتہ افراد کی تعداد خطے میں سب سے کم ہے،نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ ملک کے خلاف پراپیگنڈے کا ہتھکنڈا بن چکا ہے۔ جتنے لاپتہ افراد کی لسٹ دی جاتی رہی ہیں ان میں سے 78 فیصد کیسز حل ہو چکے ہیں۔ سردار اختر مینگل کی لاپتہ افراد سے متعلق یہ لسٹ درست نہیں ہے۔ نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں سہولیات کا کوئی اور شہری تصور نہیں کر سکتا ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں نواز شریف پر جو کیسز بنے وہ زیادہ تر بے بنیاد تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں پیشی سیمتعلق عدالتی حکم پر عمل کریں گے۔ انھوں نے کہا کہعدالتی نظام میں اصلاحات کی بہت ضرورت ہے، پہلی مرتبہ ہوگا کہ بیٹے سے تنخواہ لینے کے جرم میں کوئی نااہل ہوا ہے، نگران حکومت کی طرف سے ن لیگ کو کوئی فیور نہیں دی جا رہی، نگران حکومت کے لیے نواز شریف اور بلاول بھٹو ایک جیسے ہیں،سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ الیکشن سے متعلق وزارت داخلہ نے الیکشن کمیشن کو تعاون کی یقین دہانی کروائی، جو دیوار پھلانگ کر آئے گا تو ہم اسے مہمان کا درجہ نہیں دے سکتے ہیں،سرفراز بگٹی نے کہا کہ3لاکھ غیر قانونی تارکین وطن واپس لوٹ چکے ہیں،نگران وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کا یہ عمل ایک ماہ میں مکمل ہو جائے گا،واپسی لوٹنے والوں میں 99 فیصد سے زائدتعداد افغان تارکین وطن کی ہے،پاکستان میں افسوسناک واقعات میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا کردار رہتا ہے، سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان، جڑانوالہ اور دیگر جگہوں پر سازش کے تانے بانے کہیں اور جا کر ملتے ہیں، ہم بدقسمت لوگ ہیں کہ اس بہکاوے میں آ جاتے۔