کراچی (آن لائن) پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے بدھ کو بلندیوں کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے،ملکی تاریخ میں پہلی بار مارکیٹ58ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گئی،کے ایس ای100انڈیکس 800پوائنٹس بڑھ گیا جس کی وجہ سے انڈیکس57300پوائنٹس سے بڑھ کر58100پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا،مارکیٹ کے سرمائے میں 1کھرب21ارب روپے سے زاید کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 84کھرب روپے سے تجاوز کر گیا جبکہ60.66فیصد حصص کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ شرح سود میں ممکنہ کمی، مہنگائی کی رفتار میں تنزلی کی توقعات، انتخابات کے حوالے سے وضاحت اور آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ جیسے عوامل اسٹاک مارکیٹ کی تیزی کی اہم وجوہات بتائی جاتی ہیں۔اسٹاک ماہرین کے مطابق انڈیکس 58 ہزار کی نئی بْلند سطح پر پہنچ گیا لیکن قیمتیں اب بھی کم ہیں، مارکیٹ کیپٹلائزیشن 20 ارب ڈالر سے بڑھ کر اب 30 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں تیز رفتار بحالی ہو رہی ہے لیکن یہ غیر متوقع نہیں ہے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو کاروبار کا آغاز تیزی کیساتھ ہوا ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس58400پوائنٹس کی انتہائی ریکارڈ سطح کو عبور کر گیا تھا تاہم معمولی کریکشن سے انڈیکس اس سطح پر برقرار تو نہ رہ سکا مگر پاکستان کی تاریخ کی ایک اور نئی سطح پر پہنچے کا ریکارڈ قائم کر دڈالا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو کے ایس ای100انڈیکس میں 827.17پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے انڈیکس 57371.59پوائنٹس سے بڑھ کر58198.76پوائنٹس ہو گیا اسی طرح328.34پوائنٹس کے اضافے سے کے ایس ای30انڈیکس 19046.54پوائنٹس سے بڑھ کر19374.88پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 38509.16پوائنٹس سے بڑھ کر39075.47پوائنٹس پر جا پہنچا۔کاروباری تیزی سے مارکیٹ کے سرمائے میں 1کھرب21ارب43کروڑ57لاکھ73ہزار287روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 83کھرب22ارب74کروڑ60لاکھ 96ہزار229روپے سے بڑھ کر84کھرب44ارب18کروڑ18لاکھ 69ہزار516روپے ہو گیا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو22ارب روپے مالیت کے59کروڑ62لاکھ 17ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ منگل کو19ارب روپے مالیت کے1ارب1کروڑ22لاکھ58ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ روز مجموعی طور پر389کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے236کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ،136میں کمی اور17کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کاروبار کے لحاظ سے ورلڈکال ٹیلی کام5کروڑ3لاکھ،فوجی فرٹیلائزر بن قاسم2کروڑ32لاکھ،فوجی فوڈز لمیٹڈ2کروڑ1لاکھ،کے الیکٹرک لمیٹڈ1کروڑ96لاکھ اور سوئی نادرن گیس 1کروڑ68لاکھ حصص کے سودوں سے سرفہرست رہے۔قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اعتبار سے اسماعیل انڈسٹریز کے بھاؤ میں 60.47روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے اسکے حصص کی قیمت 866.72روپے ہو گئی اسی طرح 50.40روپے کے اضافے سے سیمنس پاکستان کے حصص کی قیمت 812.40روپے پر جا پہنچی جبکہ رفحان معیض کے بھاؤ میں 225.22روپے کی کمی واقع ہوئی جس سے اسکے حصص کی قیمت 10324.78روپے ہو گئی اسی طرح20.00روپے کی کمی سے فلپ مورس پاک کے حصص کی قیمت 516.00روپے پر آ گئی۔
Load/Hide Comments



