اسلام آباد (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف امیر جمعیت علماء اسلام(ف) مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پہنچ گئے،مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کا استقبال کیا، نواز شریف نے خوشدامن کے انتقال پر فضل الرحمان سے تعزیت کی، بعد ازاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور آئندہ عام انتخابات بارے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نیآئندہ عام انتخابات مل کر لڑنے پر اتفاق کیا جہاں ضرورت ہوگی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی اور جہاں ضرورت ہوگی سیاسی اتحاد کیا جائے گا، مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کو وطن واپسی پر مبارکباد دی اور کہا کہ ان کا وطن واپس آنا سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کیلئے خوش آئند ہے جبکہ بلاول بھٹو کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بلاول نے جو بزرگ سیاستدانوں کے حوالے سے بات کی ہے وہ پہلے اپنے والد سے کریں۔ دونوں رہنماؤ ں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ ہیں جبکہ شہباز شریف اور مریم نواز بھی نواز شریف کے ہمراہ تھے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میاں صاحب میرے پاس دعا کرنے آئے تھے ہم نے مل کر اس ملک کیلئے بہت لمبی جدوجہد کی ہے ہم حکومت میں اکٹھے رہے ایک ناجائز حکومت کیخلاف بھی ہم اکٹھے رہے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ آج تہہ کیا کہ آئندہ بھی مل کر چلیں گے انتخابی معاملات میں بھی ایڈجسٹمنٹ کریں گے کسی کو کسی کے پارٹی کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نواز شریف سے ملاقات میں ہم نے مل کر آگے چلنے پر اتفاق کیا۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے پیپلز پارٹی کے خلاف انتہاء پسندانہ رویہ اختیار نہیں کرنا بچے اور بڑے کی بات میں فرق ہوتا ہے بلاول بھٹو نے بزر گ سیاستدانوں کے حوالے سے جو بات کی ہے وہ پہلے اپنے والد سے کریں بلاول کی اگر والدہ زندہ ہوتی تو پھر کیا صورتحال ہوتی،بزرگ اور بچے کی سوچ میں فرق ہو تا ہے اور یہی فرق بلاول کے بیان سے نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ؎؎؎ماضی میں ہم نے بہت کچھ سنا اور دیکھا ہم آئندہ الیکشن کو متنازع نہیں بنانا چاہتے یہ ملک کسی بھی متنازعہ الیکشن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ میڈیا نے میرے بیان کو ایسا چلایا جیسے ہم انتحابات نہیں چاہتے میرا پیغام لیڈران تک پہنچ گیا چاہتے ہیں تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سفیر جب کسی سے ملتا ہے تو اس کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے میری نظر میں پی ٹی آئی کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے مجھے دکھ ہے میری نوجوان نسل گمراہ ہورہی ہے ہماری ہمدردیاں نوجوانوں کے ساتھ ہیں۔ سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ فلسطین کے حوالے سے ہمارا مؤقف واضح ہے میں خود قطر گیا وہ پاکستان کے مؤقف کو سراہتے ہیں ایک مسلمان کی حیثیت سے سب کو آواز اٹھانی چاہئیے ایسے وقت مسلم سربراہان کو اٹھ کھڑا ہونا چاہئے ہم ایک فلسطین کی بات کرتے ہیں۔
Load/Hide Comments



