اسلام آباد(آن لائن)سماجی کارکن، مصنفہ اور موٹیویشنل اسپیکر، 16 سالہ تقویٰ احمد کو پاکستان میں یونیسف کی پہلی یوتھ ایڈووکیٹ مقرر کیا گیا ہے۔ پنجاب کے شہر گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی تقویٰ قیامِ امن شمولیت، معذور افراد کے حقوق اور تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرتی ہیں۔ بچوں کے عالمی دن کے موقع پر ان کے تقررکا مقصد بچوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے اور مثبت تبدیلی کی کوششیں کرنے کی ترغیب دینا ہے۔اس موقع پر تقویٰ احمد کا کہنا تھا، ”میں یونیسف کی یوتھ ایڈووکیٹ بننے پر بے حد خوش ہوں۔ میرا مقصد نوجوانوں کے جذبات کی ترجمانی کرنا، ان کے حقوق کا تحفظ کرنا اور دوسروں کو بااختیار بنانا ہے۔ میں ایک ایسے مستقبل کا خواب دیکھتی ہوں، جہاں پاکستان کے ہر بچے کو اعلیٰ معیار کی تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل ہو، تاکہ وہ ایک محفوظ، سازگار اور مساوات پر مبنی ماحول میں پل بڑھ سکے۔“یونیسف یوتھ ایڈووکیٹ کی حیثیت سے تقویٰ اپنے عہدے کو بچوں کے حقوق اور نوجوانوں کے مسائل کو اْجاگر کرنے کے لیے استعمال کریں گی۔ حال ہی میں تقویٰ اور پانچ دیگر بچوں کے نمائندوں نے عالمی یوم اطفال پر یونیسف کے خصوصی اقدام کے تحت صدر پاکستان، ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی اور بچوں کے اہم خدشات کے حوالے سے ان سے تبادلہ خیال کیا۔وفد نے پاکستان کے تمام صوبوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے مختلف عمروں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچوں کی نمائندگی کی۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، یکساں تعلیم کی عدم فراہمی اور صنفی عدم مساوات جیسے اہم مسائل کو اْجاگر کیا اور بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے قومی رہنماؤں، فیصلہ سازوں اور معاشرے کی جانب سے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔یونیسف نوجوانوں، سماجی کارکنوں اور بچوں کے حقو ق کے لیے آواز اْٹھانے والوں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا، تاکہ شمولیت اور مساوات پر مبنی ایک ایسے پاکستان کی تعمیر میں نئی نسل کے سماجی تبدیلی کے علمبرداروں کی مدد کی جا سکے، جہاں تمام بچوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو اور ان کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے ان کی حقیقی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جائے.
Load/Hide Comments



