اسلام آباد(آن لائن) نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ میرے ٹویٹ پر کافی لوگوں کی رائے منقسم ہے، میرا ٹویٹ میرا ذاتی نہیں بلکہ حکومت کا موقف تھا، صدر مملکت وفاق کی علامت ہیں، ہماری مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں، صدر مملکت کا کردار کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کے طور پر نہیں بلکہ وہ پوری قوم کے صدر ہیں،صدر مملکت کو اپنا کردار مستقل مزاجی سے ادا کرنا چاہئے تھا، جب عمران خان کی حکومت تھی تو ملک کے اندر سیاسی مخالفین کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے، صدر صاحب نے اپنے خطوط اور انٹرویوز میں ایک جماعت کے کارکن کے طور پر وفاداری نبھانے کا تاثر دیا،فواد حسن فواد تقریباً 35 سال تک سول سروس سے وابستہ رہے، انہوں نے بہت سے سیاستدانوں کے ساتھ کام کیا ہے، نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ کسی کے ساتھ کام کرنے سے آپ اس جماعت کے نہیں ہو جاتے، میں خود پیپلز پارٹی کے دور میں ریڈیو پاکستان کا ڈائریکٹر جنرل رہا، اس کا ہر گز مطلب نہیں کہ میں پیپلز پارٹی کا نمائندہ ہوں،اگر فواد حسن فواد مسلم لیگ (ن) کے نمائندہ ہوتے تو وہ پچھلی حکومت میں وزیر ہوتے، وہ دو تین ماہ کے لئے وزیر کیوں بنتے؟، نگران حکومت میں فیصلے وزیراعظم کرتے ہیں، صدر صاحب نے جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو جانبداری کا مظاہرہ کیا،جب تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ہو تو اس وقت اسمبلی تحلیل نہیں کی جا سکتی، صدر صاحب نے اسمبلی تحلیل کر کے غیر آئینی کام کیا، سپریم کورٹ نے اس اقدام کو غلط قرار دیا اور کہا کہ یہ آئینی دھوکے بازی تھی، ملک میں انتخابات 8 فروری 2024ء کو ہوں گے،الیکشن کمیشن سے مسلسل رابطے میں ہیں، ان کی تمام ضروریات پوری کی جائیں گی، ہم اپنی کمٹمنٹ پوری کریں گے،صدر مملکت 25 کروڑ عوام کے صدر ہیں، آئینمیں لکھا ہے کہ صدر مملکت فوج کے سپریم کمانڈر ہیں، صدر صاحب نے 9 مئی کے واقعہ پر کتنی چٹھیاں لکھیں؟،صدر مملکت اپنے عہدے کی بے توقیری نہ کریں، صدر مملکت پی ٹی آئی کا نمائندہ بننے کی بجائے وفاق کی علامت بنیں.
Load/Hide Comments



