ریاض(آن لائن)نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ غزہ میں قتل عام فوری طور پر روکا جائے،پاکستان1967 کی سرحدوں کے مطابق ریاست فلسطین کے قیام کا حامی ہے،علیحدہ فلسطینی ریاست کا قیام ہی مسئلے کا واحد حل ہے، جس کا دارالحکومت القدس ہو،ناانصافی اور معصوم شہریوں کا قتل عام مزید تنازعات کو جنم دے گا، سلامتی کونسل پرغزہ میں قتل عام رکوانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہفتہ کو سعودی عرب کی میزبانی میں فلسطین کی صورتحال پر غور کے لئے او آئی سی اور عرب لیگ کے غیر معمولی مشترکہ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل ایک جارح اور قابض ملک ہے،70سال پہلے اقوام متحدہ نے اپنی منظور کردہ قرارداد کے ذریعے اس مسئلہ کے حل کا فیصلہ کیا،غزہ پر اسرائیلی بمباری سے ہسپتال،سکول اور اقوام متحدہ کے دفاتر بھی محفوظ نہیں رہے۔انہوں نے کہا کہغزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام فوری روکا جائے، ناانصافی اورمعصوم شہریوں کا قتل عام مزید تنازعات جنم دے گا، غزہ میں فوری طور پر انسانی ہمدردی کے تحت امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے،غزہ کو امداد فراہم کرنے کے حوالے سے مصر کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری غزہ میں فوری سیز فائر کے لئے کردار اداکریں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جنگ بندی کی کوششوں کو سراہتے ہیں،سلامتی کونسل پر غزہ میں قتل عام رکوانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا اسرائیل کے جنگی جرائم کو عالمی عدالت انصاف لے جانا چاہئے۔غزہ کی صورتحال سے متعلق فوری مذاکرات شروع کرنے چاہئیں۔مسئلے کے سیاسی حل کیلئے لازم ہے فلسطین، اسرائیل ڈائیلاکیلئے ماحول بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ غزہ پراسرائیلی بمباری سے ہسپتال، اسکول، یواین دفاتربھی محفوظ نہ رہے، غزہ میں اسرائیلی مظالم کی پرزورمذمت کرتا ہوں، پاکستان 1967 کی سرحدوں کیمطابق ریاست فلسطین کے قیام کاحامی ہے،جس کا دارالحکومت القدس ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ غزہ میں فوری انسانی ہمدردی کے تحت امدادکی فراہمی یقینی بنائی جائے، پاکستان نے2 طیاروں پرمشتمل امدادغزہ بھجوائی۔
Load/Hide Comments



