واشنگٹن (آن لائن)امریکا نے پاکستانی سکیورٹی فورسز اور تنصیبات پر حملوں کی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فورسز پر حملے افسوسناک، ہم نے افغانستان میں کوئی سامان نہیں چھوڑا۔امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا ہے کہ رواں ماہ پاکستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کی اطلاعات سے آگاہ ہیں جس پر اظہار افسوس کرتے ہیں اور واضح کرنا چاہتے ہیں کہ افغانستان سے انخلا کے دوران امریکی افواج نے کوئی سامان پیچھے نہیں چھوڑا تھا۔ویدانت پٹیل نے کہا ہے کہ ہم کسی بھی ملک میں کسی ایک پارٹی یا حکومت کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتے ہیں، انتخابات کے تناظر میں یہ بڑھ کر ہے کہ وہ آزاد اور منصفانہ ہوں اور اس ملک میں رہنے والوں کی مرضی کی عکاسی کریں۔ان کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی، انسداد منشیات کی کوششوں اور سکیورٹی سمیت دیگر شعبوں میں 40 سال سے زائد عرصے سے پاکستان کے ساتھ شراکت داری کی ہے اور اپنے دوطرفہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے رہیں گے۔غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے انخلا پر نائب ترجمانامریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ پاکستان سمیت افغانستان کے پڑوسی ممالک افغانیوں کو داخلے کی اجازت دیں اور اور مناسب بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ تعاون کریں۔امریکا کی جانب سے غزہ سے فلسطینی شہریوں کو بے دخل کر کے قبضہ کرنے کے اسرائیلی منصوبے کی مخالفت کر دی گئی ہے۔امریکی دفتر خارجہ کے ڈپٹی ترجمان ویدانت پٹیل نے نیوز بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا غزہ سے فلسطینیوں کا جبری انخلا نہیں چاہتا، امریکا کی میز پر فلسطینیوں کو نئی جگہ پر آباد کرنے کا منصوبہ موجود نہیں اس معاملے پر اسرائیل کو امریکی حمایت حاصل نہیں۔دوسری جانب ترجمان امریکی قومی سلامتی جان کربی نے کہا ہے کہ غزہ سے زیادہ تر امریکی اب رفاہ بارڈر کھولنے سے نکل آئیں گے، امریکا اور اسرائیل دوست ہیں لیکن جنگ بندی پر امریکا کا اسرائیل کے موقف سے اتفاق نہیں، رفاہ بارڈر کے ذریعے فلسطینی شہریوں کی بے دخلی نہیں چاہتے، غزہ پر اسرائیل کے قبضے کی مخالفت کریں گے۔واضح رہے کہ اپنے ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حماس کے ساتھ جنگ کے بعد اسرائیل غزہ پٹی کی غیر معینہ مدت کیلئے سلامتی کی مجموعی ذمہ داری سنبھالے گا، ہمارے پاس غزہ کی سکیورٹی کی ذمہ داری نہیں ہے تو حماس نے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کا مظاہرہ کیا جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔بنیامین نیتن یاہو کا حماس کی طرف سے یرغمالیوں کی رہائی تک جنگ بندی کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ غزہ کے جنوبی اور شمالی علاقوں کو درمیان سے تقسیم کرنے کے بعد اسرائیلی فوج مزید علاقوں پر قبضہ کر چکی ہے۔
Load/Hide Comments



