حکومتی گارنٹیوں کا بوجھ 4048 ارب روپے سے کم ہو کر 3852 روپے تک محدود ہو گیا، ایف بی آر حکام

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی سطح کے مزاکرات میں ایف بی آر حکام نے آئی ایم ایف مشن حکام کو بتایا ہے کہ ستمبر 2023 تک حکومتی گارنٹیوں کا بوجھ 4 ہزار ارب روپے تک محدود کرنا ہدف تھا جوکہ4048 ارب روپے سے کم ہو کر 3852 روپے تک محدود ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس وصولیوں سے متعلق جائزہ مشن وفد سے میٹنگ ہوئی جس میں ایف بی آر حکام نے اینٹی سمگلنگ کاروائیوں سے متعلق جائزہ مشن کو آگاہ کیا گیا جبکہکاروائیوں کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں پر اثرات سے متعلق بریفنگ دی گئی، مختلف شعبوں میں سبسبڈی کے خاتمے سے متعلق بھی دونوں فریقین میں بات چیت ہوئی۔ذرائع کا مزید کہناتھا ک برآمدی شعبے کو ٹیکس وصولیوں اور مراعات سے متعلق بھی جائزہ لیا گیا۔حکومتی گارنٹیوں میں 232 ارب روپے کمی کی رپورٹ پر آئی ایم ایف مشن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ حکومتی گارنٹیوں کا بوجھ 4048 ارب روپے سے کم ہو کر 3852 روپے تک محدود ہو گیا ہے،ستمبر 2023 تک حکومتی گارنٹیوں کا بوجھ 4 ہزار ارب روپے تک محدود کرنا ہدف تھا، آئی ایم ایف شرائط کے مطابق ستمبر تک حکومت کیجانب سے نئی گارنٹی نہیں ایشو کی گئی، آئی ایم ایف شرائط کے مطابق مرکزی بنک سے ادھار قرض نہیں لیا گیا،آئی ایم ایف کی جانب سے مرکزی بنک سے ادھار قرض نہ لینے کی شرط عائد کی گئی تھی۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ بیرونی قرض کی ادائیگیاں بروقت کی جا رہی ہیں اور ادائیگیوں میں تاخیر نہیں کی گئی، اکتوبر کے اختتام تک سنگل ٹریڑی اکاؤنٹ کی شرائط پر بھی عملدرآمد کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنگل ٹریڑی اکاؤنٹ کی شرط پر عملدرآمد کا پراسس شروع ہو چکا ہے۔