جاننا چاہتے ہیں دھرنے کا ماسٹر مائنڈ کون تھا؟چیف جسٹس آف پاکستان

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران وزارت دفاع اورآئی بی کی نظر ثانی درخواستیں خارج کردیں جبکہپی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی نظرثانی درخواست واپس لینے پر خارج کر دیں جبکہ شیخ رشید کو نوٹس جاری کر دیا۔عدالت نے وفاقی حکومت کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی مسترد کرتے ہوئے فیض آباد دھرنا کیس کے معاملے پر ذمہ داروں کے تعین کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی تجویز دے دی، اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن کی تشکیل پر عدالت کو 2 روز میں آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرادی۔عدالت نے تحریک لبیک کے خلاف کارروائی بارے الیکشن کمیشن کی عملدرآمد رپورٹ مسترد کر دی۔سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہاہے کہ ابصار عالم نے کچھ شخصیات پر الزامات عائد کیے،اگر حکومت کمیشن قائم کرتی ہے تو تمام الزامات کمیشن کے سامنے رکھے جائیں،ابصار عالم نے کہا وہ انکوائری کمیشن کے سامنے سارا بیان کھل کر دیں گے،اٹارنی جنرل نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل بارے بتایا،اٹارنی جنرل کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں کیا گیا،کمیٹی نے تحقیقات کیسے کرنی ہیں اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا،اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ حکومت انکوائری کمیشن تشکیل دے گی،اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن کی تشکیل سے متعلق مہلت طلب کی،اٹارنی جنرل کے مطابق کمیشن تشکیل دیکر عدالتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد ہوگا،حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سنجیدہ نہیں لیا،آئی بی،وزارت دفاع اور پیمرا نے نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی،وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن نے بھی نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی،: پیمرا وکیل سے پوچھا گیا وہ ابصار عالم کے الزامات پر کیا کہیں گے،پیمرا وکیل ایس اے رحمان نے کہا انہیں کاپی ہی آج ملی،پیمرا وکیل سے پوچھا گیا کہ عملدرآمد رپورٹ میں فیصلے پر عمل کہاں ہے، ایس اے رحمان نے کہا وہ اس عدالت کے سامنے دلائل نہیں دینا چاہتے، عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ شیخ رشید کی جانب سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ نے کہا کہ ان کا رابطہ نہیں ہے،ایڈوکیٹ آن ریکارڈ نے درخواست واپس لینے کا بھی کہا جو متضاد بات تھی،چیئرمین پیمرا سلیم بیگ سے پوچھا گیا کہ نظرثانی کی درخواست کیوں دائر کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ فیض آباد دھرنے کا اصل ماسٹر مائنڈ کون تھا۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کتنے کیبل آپریٹر کے خلاف کارروائی کی، آپ نے خود بتایا آپ پر کوئی دباٗونہیں تھا، یہاں جو بھی کرسی پر سے اترتا ہے کہتا ہے مجھ پر دباؤ تھا، یہ کلچر عام ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ فیض آباد دھرنا کیس میں 6 فروری 2019 کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی 9 درخواستوں پر سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے گزشتہ سماعت کا حکمنامہ دیکھ لیں، اس پر کمرہ عدالت میں موجود اٹارنی جنرل نے گزشتہ سماعت کا حکمنامہ پڑھ دیا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ابصار عالم یہاں ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہمیں بتایا گیا وہ راستے میں ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ابصار عالم نے وزرات دفاع کے ملازمین پر سنجیدہ الزامات لگائے ہیں، کیا اب بھی آپ نظرثانی درخواستیں واپس لینا چاہتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جاچْکی ہے۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر ابصار عالم کے الزامات درست ہیں تو یہ معاملہ آپ سے متعلق ہے، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کب قائم ہوئی ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کمیٹی 19 اکتوبر کو قائم کی گئی۔اٹارنی جنرل نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل کا نوٹی فکیشن پڑھ کر سنایا، دریں اثنا ابصار عالم کمرہ عدالت پہنچ گئے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کمیٹی اپنی رپورٹ کس کو پیش کرے گی؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کمیٹی اپنی رپورٹ وزارت دفاع کو پیش کرے گی، رپورٹ پھر سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی جائے گی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس ساری مشق سے اصل چیز مسنگ (غیرموجود) ہے، یہ سب ایک آئی واش ہے، سب لوگ نظرثانی واپس لے رہے ہیں تو یہ کمیٹی ٹی او آرز آنکھوں میں دھول کے مترادف ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ آج ضمانت دیتے ہیں کہ ملک میں جو ہو رہا ہے آئین کے مطابق ہے؟چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آپ اس معاملے کو ہینڈل کرنے کے اہل ہی نہیں ہیں، ایک صاحب باہر سے امپورٹ ہوتے ہیں اور پورا مْلک مفلوج کر دیتے ہیں، ہم جاننا چاہتے ہیں دھرنے کا اصل ماسٹر مائنڈ کون تھا۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ کیا کوئی کینیڈا جا کر فساد کر کے واپس پاکستان آسکتا ہے؟ کیا ہم کینیڈا میں جا کر اْن کے پورے ملک کو ڈسٹرب کر سکتے ہیں؟ کیا یہ حق صرف کینیڈا سے آنے والوں کو حاصل ہے، انہیں کون لے کر آیا تھا، کینیڈا سے سبق سیکھیں، انہوں نے ایک سکھ رہنما کے قتل پر بڑے ملک سے ٹکر لے لی، کینیڈا واپس چلے گئے تو بتائیں جس کام کے لیے آئے تھے کیا وہ حل ہو گیا؟چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے مزید ریمارکس دیے کہ اسلام امن کا دین ہے، وہ اسلام کو بھی بدنام کر رہے ہیں، وہ اسلام کی بات کر رہے تھے تو کیا سب ان سے ڈر جاتے، ایک مسلمان کو ڈرنا نہیں چاہیے، فساد فی الارض کی گنجائش نہیں ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ فیض آباد دھرنا ایک لینڈ مارک فیصلہ تھا، اس پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ میرے مطابق تو وہ ایک سادہ سا فیصلہ تھا، اس وقت اچھی یا بری جیسی بھی حکومت تھی عوام کی منتخب کردہ حکومت تھی، کوئی غلط قانون بن گیا تو اسپیکر کو خط لکھ دیتے یہ آپ سے غلطی ہو گئی۔دریں اثنا عدالت نے وفاقی حکومت کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی مسترد کرتے ہوئے فیض آباد دھرنا کیس کے معاملے پر ذمہ داروں کے تعین کے لیے انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی تجویز دے دی، اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن کی تشکیل پر عدالت کو 2 روز میں آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرادی۔