لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے الیکشن کمیشن انتخابات کا شیڈول جاری کرے۔ 2018ء کے قومی انتخابات میں طاقتور طبقات کی جانب سے ایک پارٹی کو مواقع فراہم کیے گئے، یہ تاثر اب پھر قائم ہو رہا ہے، الیکشن سے قبل انھیں متنازعہ بنانے سے اجتناب کیا جائے، انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں، ابھی سے دھاندلی کی بنیادیں رکھ دی گئیں تو نتائج کوئی قبول نہیں کرے گا، مزید عدم استحکام پیدا ہوگا۔ منصورہ میں مرکزی قیادت کے اجلاس کی صدارت کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اہل فلسطین کی مدد کے لیے حکمرانوں کے ضمیر جگانے کی جدوجہد جاری رہے گی، 12نومبر کو سیالکوٹ اور 19نومبر کو لاہور میں تاریخی غزہ مارچز کا انعقاد کیا جائے گا۔ نائب امیر لیاقت بلوچ، سیکرٹری جنرل امیر العظیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری اور ڈائریکٹر امور خارجہ آصفلقمان قاضی بھی اس موقع پر موجود تھے۔سراج الحق نے کہا کہ صاف و شفاف الیکشن کا انعقاد الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، نگران حکومت اپنی حقیقی ذمہ داری کے علاوہ تمام دیگر امور میں دلچسپی لے رہی ہے، آئے روز مہنگائی کاطوفان برپا کردیا جاتا ہے، بجلی پٹرول کے بعد گیس کی قیمت میں بھی 194فیصد اضافہ کردیا گیا، عوام کے لیے سانس لینا دشوار ہوگیا ہے، بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ نگرانوں کا مینڈیٹ نہیں، فیصلوں کو مسترد کرتے ہیں، مہنگائی کے خلاف تحریک جاری رہے گی۔ موجودہ حکمرانوں نے فلسطین پر بھی قوم کے جذبات کی حقیقی ترجمانی نہیں کی۔امیر جماعت نے کہا کہ نگران حکومت آئی ایم ایف کے حکم پر عوام کا خون نچوڑ رہی ہے، گیس کی قیمتوں میں حالیہ ہوش ربا اضافے کی منظوری کے بعد جس شخص کا ماہانہ بل 250روپے آتا تھا وہ اب 1900روپے اداکرے گا، ٹیرف میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔ پٹرول کی قیمت 61روپے لٹر بڑھا کر 41روپے کمی کی گئی، عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد ٹرانسپورٹ کرایوں سمیت ہر چیز کے نرخ بڑھے، اب کمی نہیں کی جارہی۔ حکمران طبقات اربوں کی مراعات،مفت بجلی، گیس، پٹرول استعمال کرتے ہیں، یہ عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ پراپنی عیاشیاں کم کرنے کی بجائے عوام کی گردن دبوچ لیتے ہیں جو ان کے لیے ہمیشہ سے آسان ٹارگٹ رہا ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ غزہ پر 24دنوں سے اسرائیلی بمباری جاری ہے، اب تک شہر پر00 18ٹن بارود گرا دیا گیا جس کی مقدار امریکا کے ناگاساگی اور ہیروشیما کے حملوں سے بھی زیادہ ہے۔ ظالم صہیونی افواج کے حملوں میں 3457بچوں، 2136خواتین سمیت 8306معصوم شہری شہید ہو چکے ہیں۔ 20روز بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد منظور ہوئی، لیکن اس کے ایک دن بعد اسرائیل نے غزہ پر زمینی حملوں کا آغاز کر دیا، شہر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، جس کے نیچے ہزاروں لوگ دفن ہو گئے، غزہ کے ہسپتالوں، سکولوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان حالات میں سب سے افسوس ناک پہلو اسلامی دنیا کے حکمرانوں کی خاموشی ہے، یہ تذبذب کا شکار اور فلسطینیوں کی نسل کشی کا منظر دیکھ رہے ہیں، او آئی سی کی جانب سے عملی اقدامات اٹھانے کی بجائے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو خط لکھا گیا۔ امریکا کھل کر اسرائیلی سفاکیت کی حمایت کر رہا ہے، جماعت اسلامی نے اسرائیلی کی امریکی سرپرستی کے خلاف اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا تو امریکا سے خائف حکمرانوں نے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گرفتاریاں کیں، اس کے باوجود ایمبیسی روڈ پر جماعت اسلامی نے تاریخی مارچ کا انعقاد کیا، جسے عالمی میڈیا نے دنیا کے بڑے مظاہروں میں ایک مظاہرہ قرار دیا۔ واضح ہے کہ پاکستانیوں سمیت اور پوری امت مسلمہ جاگ رہی ہے جب کہ اس کے حکمران سوئے ہوئے ہیں۔ عالم اسلام کو بیدار ہو کر غزہ کو بچانا ہو گا۔ انھوں نے فلسطینیوں کی بھرپور حمایت پر پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کیا اور انھیں الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے قائم کیے گئے غزہ فنڈ میں بھرپور عطیات جمع کرانے کی اپیل کی۔ انھوں نے کہا کہ الخدمت نے اب تک ایک ارب سے زائد امداد غزہ پہنچا دی ہے، دیگر عالمی فلاحی اداروں سے مل کر الخدمت کے رضاکاران فلسطینیوں کی مدد کر رہے ہیں۔
Load/Hide Comments



