روپے کی قدر کے استحکام میں قانون نافذ کرنیوالوں کا کردار بہت اہم ہے، شمشاد اختر

کراچی (آن لائن) نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہا ہے کہ روپے کی قدر کے استحکام میں قانون نافذ کرنیوالوں کا کردار بہت اہم ہے۔یہ نہیں کہتی کہ مہنگائی کو ختم کیا لیکن مہنگائی کو قابو کرنے کیلئے اپنی پوری کوشش کی اور آج معیشت بحالی کی جانب گا مزن ہو چکی ہے۔ ہم ابھی بھی آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہیں۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کیئے جارہے ہیں، معاشی مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،ہم نے بحرانوں کے باوجو د معیشت کو بحال رکھنے کی کی کوشش کی، نگران حکومت آئی تو معیشت مشکلات کا شکار تھی،نگران حکومت قلیل مدت میں کم بیک کیا، اب معیشت میں مثبت رحجان سامنے آرہا ہے ہمیں جب بھی کوئی کام بتاتا ہے ہم اس پر کام شروع کر دیتے ہیں،روس یوکرین جنگ کے تما م ترقی پذیر ممالک پر اثرات پڑے ہیں، اس جنگ کا اثر پاکستان پر بھی پڑا،معیشت بحالی کی جانب گامزن ہو چکی ہے،صنعتی ترقی کیلیئے کام کیا جار ہا ہے، ڈالر کی اسمگلنگ کے خلاف سیکورٹی اداروں نے بہت بہتر کام کیا ہے، انٹر بنک میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم ہوا ہے اور مزید اسے مستحکم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، کرنسی کا استعمال کرنا غیر قانونی ہے جس کے ااثرات ملکی معیشت پر بھی پڑے کرنسی کے غلط استعمال کو روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ابھی بھی آئی ایم ایف کے پروگرام میں لیکن اب صورتحال قابو میں ہے، آئی ایم کے پروگرام پر بہتری سے عمل درآمد کیا ہے۔غیر قانونی ٹرانزیکشنز کے خلاف بھی ایکشن ہورہا ہے، میں یہ نہیں کہتی کہ مہنگائی کو ختم کیا لیکن توجہ کے ساتھ مہنگائی کو قابو کرنے کیلئے اپنی پوری کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبہ پر توجہ دے کر مسائل پر قابوپایا جاسکتا ہے، حکومت چلانے کیلئے ہمیں چاہئے، ایف بی آر نے تین ماہ میں آئی ایم ایف کے ہدف سے زہادہ ٹیکس کلیکشن کی ہیں،آئی ایم کا وفد2نومبر کو پاکستان کے دورے پر آرہا ہے۔شرح سو د وزارت خزانہ نہیں اسٹیٹ بنک مقرر کر تا ہے۔