کراچی (آن لائن)حلقہ خواتین جماعت اسلامی کے تحت اسرائیل کی جارحیت و دہشت گردی،مظلوم و نہتے فلسطینی بچوں، ماؤں،بہنوں پر بمباری کرنے کے خلاف اوراہل غزہ و فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کراچی میں ”خواتین مارچ“کا سلسلہ جاری،جمعہ کو ماڈل پارک کورنگی نمبر 5میں تیسرا ”خواتین مارچ“کیا گیا،مارچ سے امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کیا۔ مارچ میں امیر ضلع کورنگی و ٹاؤن چیئرمین لانڈھی عبد الجمیل، سکریٹری ضلع کورنگی عبدالحفیظ، نائب امیر ضلع اقبال سعید،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری،حلقہ خواتین کراچی کی ناظمہ اسماء سفیر، ناظمہ ضلع ناہید ظہیر ودیگر خواتین ذمہ داران بھی موجود تھیں۔مارچ میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی جن کے ہمراہ چھوٹے بچے اور بچیاں بھی تھیں۔ خواتین نے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور ماتھوں پر سرخ رنگ کی پٹی باندھی ہوئی تھی جس پر”لبیک یا اقصیٰ“ تحریر تھا۔ مارچ کی شرکاء نے ہاتھوں میں بڑا بینر اٹھایا ہوا تھا جس پر تحریر تھا کہ کلنا فداک اقصیٰ، لبیک یا اقصیٰ۔ خواتین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا کہ فلسطینیوں سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ، فلسطینی مسلمان اسلام دشمنوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گے، ہم فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، بیت المقدس ہمارے ایمان کا حصہ ہے، لبیک یااقصیٰ۔عاصم منیر صاحب! بیانات نہیں اقدامات کی ضرورت ہے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں، اے پروردگار! فلسطین کے مسلمانوں کی غیب سے مدد کر۔I Stand with Palestine for this our duty divine, Free Palestine, حافظ نعیم الرحمن نے ”خواتین مارچ“ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حماس کے مجاہدین کے جذبہ جہاد نے پوری دنیا کے با ضمیرمسلمانوں کو جگایاہے۔حماس نے جذبہ جہاد سے اسرائیل اور امریکہ کا غرور خاک میں ملادیا۔اب کوئی نہیں کہہ سکتاکہ اسرائیل ناقابل شکست ہے۔گزشتہ رات حماس کے مجاہدین نے تل ابیب میں موجود صیہونی فوجیوں پر راکٹ برسا کر جہنم واصل کیا ہے۔ہم حماس کے مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہیں جو پوری امت کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے فرض کفایہ ادا کررہے ہیں۔ 22لاکھ فلسطینی مسلمانوں پر پانی، بجلی بند کردی گئی ہے۔فلسطینی مسلمان مزاحمت کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور پر عزم ہیں کہ فلسطین اور قبلہ اول مسجد اقصیٰ کو صیہونیوں سے ضرور آزاد کروائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ امت مسلمہ کے حکمرانوں کے پاس پیسوں کی نہیں غیر ت و حمیت کی کمی ہے،58اسلامی ممالک میں 70لاکھ سے زائد اسٹیندنگ آرمی موجود ہے،فلسطینی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں سوال کررہی ہیں کہ ہم تو مزاحمت کررہے ہیں لیکن امت مسلمہ کے حکمران کیا کررہے ہیں۔حکمران اسرائیل سے پینگیں بڑھانے کی باتیں کرتے ہیں لیکن فلسطینی مسلمانوں کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔اگر ہمارے حکمران فلسطینی مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کرسکتے تو کم سے کم اسرائیلی مصنوعات کا ہی بائیکاٹ کریں۔انہوں نے مزیدکہاکہ امریکہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کا چارٹر بنا کردیتا ہے لیکن فلسطینی بچے کو قتل کرنے پر اسرائیل کی پشت پناہی کرتا ہے۔انسانی حقوق کے بارے میں امریکہ اور مغرب کا دوہرا معیار ہے،امریکہ اسرائیل کو یہ حق دے رہا ہے کہ وہ فلسطینی بچوں پر بم گرائے۔اقوام متحدہ بھی ظالم کا ساتھ دے رہی ہے۔حماس کے مجاہدین نے صیہونی خواتین کو قیدسے آزاد کیا تو ان خواتین نے بتایا کہ مجاہدین نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔آج حماس کا قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک پوری دنیا کے سامنے آرہا ہے۔قائد اعظم ؒ نے کہا تھا کہ اسرائیل ناجائز اور غیرریاست ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔پاکستان میں موجود بعض دانشور کہتے تھے کہ عرب ممالک بھی اسرائیل کو قبول کررہے ہیں تو ہمیں بھی کرلینا چاہیئے۔ایسے سارے لوگ امریکہ کی غلامی کرنے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے عوض معیشت کی بہتری کا ڈھونک رچارہے ہیں۔
Load/Hide Comments



