اسلام آباد (آن لائن) پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری فوری طور پر بند اور غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے، پاکستان کا فلسطین پر مؤقف کبھی تبدیل نہیں ہوا پاکستان غیر مشروط جنگ بندی چاہتا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر کا حل ناگزیر ہے،یوکرائن کو پاکستان نے کوئی اسلحہ فراہم نہیں کیا،بھارت کو جدید اسلحے کی ٹیکنالوجی منتقل کرنیوالا امریکہ کیسے کسی ملک یا ادارے پر دوسرے ملک کو ٹیکنالوجی منتقلی پر پابندی لگاسکتا ہے۔غیرقانونی غیرملکیوں کو نکالنے کا فیصلہ ملکی سلامتی اور معاشی نکتہ نظر سے کیا گیا، ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی بشکک میں شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہان حکومت کونسل اجلاس میں شرکت کررہے ہیں اجلاس میں علاقائی رابطوں، قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں پر تفصیلی غور ہو گا آج پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہان حکومت کونسل کی صدارت سنبھالے گا فلسطین میں صورتحال تشویشناک ہے، 6000 سے زائد فلسطینی شہادتوں پر تعزیت کرتے ہیں۔پاکستان غزہ میں اسرائیلی بمباری کی مذمت کرتا ہے اب تک غزہ میں 6700 معصوم شہری شہید، کئی ہزار زخمی ہیں۔پاکستان کا فلسطین پر مؤقف کبھی تبدیل نہیں ہوا پاکستان غیر مشروط جنگ بندی چاہتا ہے غزہ کا محاصرہ فوری ختم، خوراک ادویات، ضروری اشیاء کی فراہمی ممکن بنائیں امدادی کارکنان پر بمباری روکی جائے، ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے،انہوں نے کہا کہ یو این سکیورٹی کونسل فلسطینیوں پر مظالم بند کرانے میں مکمل ناکام رہی ہے، اسرائیل کی حمایت کرنے والے جنگ بندی میں کردار ادا کریں، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا خصوصی ہنگامی اجلاس منعقد ہو رہا ہے پاکستان پر امید ہے کہ آج جنرل اسمبلی اجلاس میں جنگ بندی پر پیشرفت ہوگی اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کررہا ہے محاصرے کے باعث غزہ کے شہریوں کے لئے خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت ہے پاکستان القدس الشریف کے دارالحکومت کے ساتھ آزاد، خود مختار فلسطینی ریاست کا حامی ہے۔ مسئلہ کشمیر سے متعلق ترجما ن دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ جموں و کشمیر بھی تاحال حل طلب ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر کا حل ناگزیر ہے مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہری قابض بھارتی فورسز سے نالاں، قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں پاکستان ہمیشہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا احترام کرتا ہے، امید ہے بھارت بھی کرے گا پاکستان کرکٹ ٹیم کی حفاظت بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ترجمان دفترخارجہ نے مزید کہا کہ غیر قانونی مقیم لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ ملکی سلامتی کیلئے کیا گیا، یکم نومبر سے غیر قانونی مقیم لوگوں کیخلاف پلان ایکشن میں آجائے گا، پاکستان نے غیرقانونی تارکین وطن کو واپس بھجوانے کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا ہے جو غیرقانونی طور پر مقیم ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق سزا مقرر ہے پاکستان نے غیرقانونی غیرملکیوں کو نکالنے کا فیصلہ ملکی سلامتی اور معاشی نکتہ نظر سے کیا گیاہم نے افغان عبوری حکومت کو افغان مہاجرین کی واپسی پر اعتماد میں لیا ہے انہیں بتایا ہے کہ یہ پالیسی صرف افغانستان کے لئے نہیں تمام ممالک کے لئے ہے۔یکم نومبر سے غیرقانونی تارکین وطن کو جبری واپس بھجوایا یا گرفتار کیا جائے گا دوست ملک نے افغان شہریوں کو اپنے ملک لے جانے کی درخواست کی ہے وزارت داخلہ کی کلیئرنس کے بعد انکو بھجوایا جائے گاپاکستان اقوام متحدہ کے اصلاحات کو جمہوری انداز میں آگے بڑھانا چاہتا ہوں غیرقانونی افغانوں یا تارکین وطن کے بارے میں تاحال کوئی اعدادوشمار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلحے کی برآمدات طے شدہ پروٹوکول کے تحت کرتا ہے یوکرائن کو پاکستان نے کوئی اسلحہ فراہم نہیں کیا ہمارے علم میں نہیں کہ یوکرائن میں پاکستان کا بنا کونسا اسلحہ استعمال ہوا، امریکہ خود بھارت کو جدید اسلحے کی ٹیکنالوجی منتقل کررہا ہے امریکہ کیسے کسی ملک یا ادارے پر دوسرے ملک کو ٹیکنالوجی منتقلی پر پابندی لگاسکتا ہے بھارت کو ٹیکنالوجی کی منتقلی خود امریکہ کی اپنی پالیسی کے خلاف ہے۔غیرملکیوں کو شکار کے لئے لائسنس کی فراہمی اور فیس وصولی بھی صوبے کرتے ہیں شکار کے لیے آنے والے غیرملکی ان علاقوں میں ترقیاتی و معاشی منصوبے بھی مکمل کرتے ہیں۔
Load/Hide Comments



