اسلام آباد (آن لائن) پی ٹی آئی چیئرمین کی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے الیکشن کمیشن نہیں لاسکتے ہیں وزارت داخلہ،اسلام آباد اور پنجاب پولیس نے معذرت کرلی،کمیشن نے معاملے پر سیکرٹری داخلہ کو طلب کرلیا ہے۔منگل کے روز ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف توہین الیکشن کیس کی سماعت کی پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل شعیب شاہین الیکشن کمیشن میں پیش ہونے اس موقع پر الیکشن کمیشن کی جانب سے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے باوجود پی ٹی آئی چیئرمین کو الیکشن کمیشن میں پیش نہیں کیا گیا جس وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ آج الیکشن کمیشن کی اصل توہین ہوئی ہے اس موقع پر سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید خان نے وزارت داخلہ،اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس کی جانب سے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی چیئرمین کے حوالے سے لکھی جانے والی تحریری رپورٹ پڑھتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کی زندگی کو شدید خطرات ہیں اس کو الیکشن کمیشن لانے کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے بھی پی ٹی آئیچیئرمین کو الیکشن کمیشن لانے سے معذرت کی ہے اور الیکشن کمیشن کو سماعت آڈیالہ جیل میں کرنی چاہیئے جس پر ممبر کمیشن نے کہا کہ ہم کیسے جاسکتے ہیں اور پی ٹی آئی چیئرمین کو لانے میں کیا خطرات ہیں ممبر پنجاب نے کہا کہ اگر آج ایک شخص کو حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتے تو کل الیکشن کیسے کرائیں گے جس پر آے آئی جی پنجاب نے کہا پی ٹی آئی چیئرمین نے خود کہا تھا کہ اس کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں جس ہر ممبر سندھ نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین جو کہتے آپ کو یقین ہے صحیح کہہ رہے ہیں،اس موقع پر ہی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل نے کہا کہ اس معاملے کو ختم کردیں میں وعدہ کرتا ہوں کہ مستقبل میں ایسا نہیں ہوگا جس پر ممبر کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین سے تحریری طور پر معذرت لکھوا لیں ہم معاملہ ختم کردیں گے جس پر وکیل نے کہا کہ ہمیں پی ٹی آئی چیئرمین سے ملنے کی اجازت نہیں ملتی ہے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف 199کیسز ہیں اور زیادہ تر کیسز میں ضمانت ہوچکی ہے انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو آئینی ادارہ مانتے ہیں جہاں پر اختلاف ہوگا ہم کریں گے جس پر ممبر کمیشن نے کہا کہ اختلاف کریں مگر گالی نہ دیں اس موقع پر سیکرٹری کمیشن نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی چیئرمین کو لانے کے لیے رینجرز اور فوج کی خدمات لی جائیں ان کے پاس سیکورٹی بہترہے جس پر ممبر کمیشن نے کہا کہ اگر رینجرز اور فوج نے سب کرنا ہے تو الیکشن کیسے ہونگے ممبر کمیشن نے استفسار کیا کہ وزارت داخلہ کے کس آفیسر نے کہا ہے کہ ہم آڈیالہ جاکر سماعت کریں جس پر آے آئی جی پنجاب نے کہا کہ پنڈی گنجان آبادی پر مشتمل ہے وہاں سے پی ٹی آئی چیئرمین کو لانا خطرات سے خالی نہیں یے ممبر پنجاب نے کہا کہ وزارت داخلہ کیسے ہمیں حکم دے سکتا ہے کہ ہم جیل میں سماعت کریں اس معاملے پر سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت سے طلب کرتے ہیں کمیشن نے کیس کی سماعت تیرہ نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ کو طلب کرلیا ہے۔
Load/Hide Comments



